حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ , أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ أَشْيَاءَ كُنَّا نَفْعَلُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، كُنَّا نَتَطَيَّرُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَلِكَ شَيْءٌ تَجِدُهُ فِي نَفْسِكَ , فَلَا يَصُدَّنَّكم" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ , قَالَ:" فَلَا تَأْتِ الْكُهَّانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ بن حکم سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ بتایے کہ ہم زمانہ جاہلیت میں جو کام کرتے تھے مثلاہم پرندوں سے شگون لیتے تھے اس کا کیا حکم ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے ذہن کا ایک وہم ہوتا تھا اب یہ تمہیں کسی کام سے نہ روکے انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم کاہنوں کے پاس بھی جایا کرتے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اب نہ جایا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15663]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 537
الحكم: إسناده صحيح، م: 537