بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بَقِیَّة حَدِیثِ معَاوِیَةَ بنِ قرَّةَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 15592 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، زِيَادُ بْنُ مِخْرَاقٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ مِخْرَاقٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ رَجُلًا , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَأَذْبَحُ الشَّاةَ وَأَنَا أَرْحَمُهَا، أَوْ قَالَ: إِنِّي لَأَرْحَمُ الشَّاةَ أَنْ أَذْبَحَهَا، فَقَالَ:" وَالشَّاةُ إِنْ رَحِمْتَهَا رَحِمَكَ اللَّهُ، وَالشَّاةُ إِنْ رَحِمْتَهَا رَحِمَكَ اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا قرہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! میں جب بکری ذبح کرتا ہوں تو مجھے اس پر ترس آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: اگر تم بکری پر ترس کھاتے ہو تو اللہ تم پر رحم فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15592]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15593 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةَ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ:" مَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا قرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15593]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15594 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صِيَامُ الدَّهْرِ وَإِفْطَارُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معاویہ بن قرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر مہینے تین روزے رکھنے کے متعلق فرمایا کہ یہ روزانہ روزہ رکھنے کے اور کھولنے کے مترادف ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15594]
حدیث نمبر: 15595 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتُحِبُّهُ؟" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا فَعَلَ ابْنُ فُلَانٍ؟" قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِيهِ:" أَمَا تُحِبُّ أَنْ لَا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ يَنْتَظِرُكَ؟" فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَهُ خَاصَّةً أَمْ لِكُلِّنَا؟ قَالَ:" بَلْ لِكُلِّكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا قرہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے کو لے کر آتا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ اس شخص سے پوچھا کہ کیا تمہیں اپنے بیٹے سے محبت ہے اس نے کہا یا رسول اللہ! جیسی محبت میں اس سے کرتا ہوں اللہ بھی آپ سے اسی طرح محبت کر ے پھر وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس سے غائب رہنے لگا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ فلاں شخص کا کیا بنا لوگوں نے بتایا کہ اس کا بیٹافوت ہو گیا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ تم کیا اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم جنت کے جس دروازے پر جاؤ تو اسے اپنا انتظار کرتے ہوئے پاؤ ایک آدمی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! یہ حکم اس کے ساتھ خاص ہے یا ہم سب کے لئے ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم سب کے لئے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15595]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15596 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ، فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ، وَلَا يَزَالُ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يُبَالُونَ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا قرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اہل شام میں فساد پھیل جائے تو تم میں کوئی خیر نہ رہے گی اور میرے کچھ امتی قیام قیامت تک ہمیشہ مظفرومنصور رہیں گے اور انہیں کسی کے ترک تعاون کی کوئی پرواہ نہ ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15596]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15597 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ، فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ، وَلَنْ تَزَالَ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ , لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا قرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اہل شام میں فساد پھیل جائے تو تم میں کوئی خیر نہ رہے گی اور میرے کچھ امتی قیام قیامت تک ہمیشہ مظفرومنصور رہیں گے اور انہیں کسی کے ترک تعاون کی کوئی پرواہ نہ ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15597]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح