بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث معَاوِیَةَ بنِ قرَّةَ عَن اَبِیهِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 15581 مسند احمد
حَسَنٌ يَعْنِي الْأَشْيَبَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، زُهَيْرٌ ، عُرْوَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُشَيْرٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَبِيهِ ، أَبُو النَّضْرِ ، زُهَيْرٌ ، عُرْوَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُشَيْرٍ أَبُو مَهَلٍ الْحَنَفِيُّ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ يَعْنِي الْأَشْيَبَ ، وَأَبُو النَّضْرِ , قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُشَيْرٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُشَيْرٍ أَبُو مَهَلٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، فَبَايَعْنَاهُ وَإِنَّ قَمِيصَهُ لَمُطْلَقٌ، قَالَ: فَبَايَعْنَاهُ ثُمَّ أَدْخَلْتُ يَدِي فِي جَيْبِ قَمِيصِهِ فَمَسِسْتُ الْخَاتَمَ" , قَالَ عُرْوَةُ: فَمَا رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ وَلَا ابْنَهُ قَالَ حَسَنٌ يَعْنِي أَبَا إِيَاسٍ فِي شِتَاءٍ قَطُّ , وَلَا حَرٍّ , إِلَّا مُطْلِقَيْ إِزَارِهِمَا لَا يَزُرَّانِهِ أَبَدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ بن قرہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں میں قبیلہ مزینہ کے ایک گروہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کر لی اس وقت آپ کی قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے چنانچہ بیعت کے بعد میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اجازت سے آپ کی قمیص مبارک میں ہاتھ ڈال کر مہر نبوت کو چھو کر دیکھا راوی حدیث عروہ کہتے ہیں میں نے سردی گرمی جب بھی معاویہ اور ان کے بیٹے کو دیکھا ان کی قمیص کے بٹن کھلے ہوئے ہی دیکھے وہ اس میں کبھی بٹن نہ لگاتے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15581]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15582 مسند احمد
رَوْحٌ ، قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ أُدْخِلَ يَدِي فِي جُرُبَّانِهِ، وَإِنَّهُ لَيَدْعُو لِي , فَمَا مَنَعَهُ أَنْ أَلْمِسَهُ أَنْ دَعَا لِي قَالَ: فَوَجَدْتُ عَلَى نُغْضِ كَتِفِهِ مِثْلَ السِّلْعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ بن قرہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کی قمیص مبارک میں ڈالنے اور اپنے حق میں دعا کرنے کی درخواست کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے نہیں روکا اور میں نے نبوت کو ہاتھ لگا کر دیکھا اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے حق میں دعا فرمائی میں نے محسوس کیا کہ مہر نبوت آپ کے کندھے پر غدود کی طرح ابھری ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15582]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15583 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِيَاسٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِيَاسٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَدَعَا لَهُ، وَمَسَحَ رَأْسَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو ایاس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی نے ان کے حق میں دعاء فرمائی اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15583]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15584 مسند احمد
عفان ، شُعْبَةُ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عفان ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ:" صَوْمُ الدَّهْرِ وَإِفْطَارُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معاویہ بن قرہ اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر مہینے تین روزے رکھنے کے متعلق فرمایا کہ یہ روزانہ روزہ رکھنے اور کھولنے کے مترادف ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15584]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح