بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تَمَامُ حَدِيثِ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 15557 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَكَانَ" إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً أَوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ" قَالَ: وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا، وَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا صخر غامدی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے کہ اے اللہ میری امت کے پہلے اوقات میں برکت عطا فرما خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ کرتے تو اس لشکر کو دن کے ابتدائی حصے میں بھیجتے تھے اور راوی حدیث سیدنا صخر تاجر آدمی تھے یہ بھی اپنے نوکر وں کو صبح سویرے ہی بھیجتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے پاس مال دولت کی اتنی کثرت ہو گئی تھی کہ انہیں یہ سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ اپنا مال دولت کہاں رکھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15557]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف دون قوله: اللهم بارك لأمتي فى بكورها فهو حسن بشواهده ، عمارة بن حديد مجهول
الحكم: حديث ضعيف دون قوله: اللهم بارك لأمتي فى بكورها فهو حسن بشواهده ، عمارة بن حديد مجهول
حدیث نمبر: 15558 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عُمَارَةَ بْنَ حَدِيدٍ ، صَخْرًا الْغَامِدِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ أَنْبَأَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ حَدِيدٍ ، رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ صَخْرًا الْغَامِدِيَّ رَجلًا مِنَ الْأَزْدِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا" , قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً بَعَثَهُمْ أَوَّلَ النَّهَارِ، وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا، وَكَانَ لَهُ غِلْمَانٌ، فَكَانَ يَبْعَثُ غِلْمَانَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، قَالَ: فَكَثُرَ مَالُهُ حَتَّى كَانَ لَا يَدْرِي أَيْنَ يَضَعُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا صخر غامدی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے کہ اے اللہ میری امت کے پہلے اوقات میں برکت عطا فرما خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ کرتے تو اس لشکر کو دن کے ابتدائی حصے میں بھیجتے تھے اور راوی حدیث سیدنا صخر تاجر آدمی تھے یہ بھی اپنے نوکر وں کو صبح سویرے ہی بھیجتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے پاس مال دولت کی اتنی کثرت ہو گئی تھی کہ انہیں یہ سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ اپنا مال دولت کہاں رکھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15558]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف دون قوله: اللهم بارك لأمتي فى بكورها فهو حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمارة بن حديد
الحكم: حديث ضعيف دون قوله: اللهم بارك لأمتي فى بكورها فهو حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمارة بن حديد