رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ , أنَّ جاهمة جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَدْتُ الْغَزْوَ، وَجِئْتُكَ أَسْتَشِيرُكَ , فَقَالَ:" هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟" قَالَ: نَعَمْ , فَقَالَ:" الْزَمْهَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلِهَا" ثُمَّ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ الثَّالِثَةَ فِي مَقَاعِدَ شَتَّى كَمِثْلِ هَذَا الْقَوْلِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ بن جاہمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جاہمہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں جہاد میں شرکت کرنا چاہتا ہوں آپ کے پاس مشورے کے لئے آیاہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہاری والدہ حیات ہیں انہوں نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر ان کی خدمت کو اپنے اوپر لازم کر لو کیونکہ جنت ان کے قدموں کے تلے ہیں دوسری مرتبہ اور تیسری مرتبہ بلکہ کئی مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15538]
الحكم: إسناده حسن