بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث عَامِرِ بِنِ شَهر رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 15536 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي الْمُؤَدِّبَ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، وَالْمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، عَامِرِ بْنِ شَهْرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي الْمُؤَدِّبَ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ , وَالْمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ , عَنْ عَامِرِ بْنِ شَهْرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ كَلِمَتَيْنِ , مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةٌ، وَمِنْ النَّجَاشِيِّ أُخْرَى، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" انْظُرُوا قُرَيْشًا، فَخُذُوا مِنْ قَوْلِهِمْ، وَذَرُوا فِعْلَهُمْ" , وَكُنْتُ عِنْدَ النَّجَاشِيِّ جَالِسًا، فَجَاءَ ابْنُهُ مِنَ الْكُتَّابِ، فَقَرَأَ آيَةً مِنْ الْإِنْجِيلِ، فَعَرَفْتُهَا أَوْ فَهِمْتُهَا، فَضَحِكْتُ، فَقَالَ: مِمَّ تَضْحَكُ؟! أَمِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى؟ فَوَاللَّهِ إِنَّ مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ أَنَّ اللَّعْنَةَ تَكُونُ فِي الْأَرْضِ إِذَا كَانَ أُمَرَاؤُهَا الصِّبْيَانَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر بن شہر سے مروی ہے کہ میں نے دو باتیں سنی ہیں ایک تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اور ایک نجاشی سے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قریش کو دیکھا کر وان کی باتوں کو لیا کر و اور ان کے افعال کو چھوڑ دیا کر و اور ایک مرتبہ میں نجاشی کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس کا بیٹا ایک کتاب لایا اور انجیل کی ایک آیت پڑھی میں اس کا مطلب سمجھ کر ہنسنے لگا نجاشی نے یہ دیکھ کر کہا تم کس بات پر ہنس رہے ہواللہ کی کتاب پر واللہ سیدنا عیسیٰ پر اللہ نے یہ وحی نازل فرمائی ہے کہ زمین پر اس وقت لعنت بر سے گی جب اس میں بچوں کی حکمرانی ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15536]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح من جهة إسماعيل بن أبى خالد، ومجالد بن سعيد ضعيف لكنه توبع
الحكم: إسناده صحيح من جهة إسماعيل بن أبى خالد، ومجالد بن سعيد ضعيف لكنه توبع