بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث السَّائِبِ بنِ عَبدِ اللَّهِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 15500 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ ، مُجَاهِدٍ ، السَّائِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَال: جِيءَ بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، جَاءَ بِي عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَزُهَيْرٌ، فَجَعَلُوا يَثْنُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُعْلِمُونِي بِهِ، قَدْ كَانَ صَاحِبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ" قَالَ: قَالَ: نَعَمْ , يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَنِعْمَ الصَّاحِبُ كُنْتَ، قَالَ: فَقَالَ:" يَا سَائِبُ، انْظُرْ أَخْلَاقَكَ الَّتِي كُنْتَ تَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَاجْعَلْهَا فِي الْإِسْلَامِ، أَقْرِ الضَّيْفَ، وَأَكْرِمْ الْيَتِيمَ، وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سائب بن عبداللہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا مجھے لانے والے سیدنا عثمان اور زہیر تھے وہ لوگ میری تعریف کرنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان کے معلق مت بتاؤ یہ زمانہ جاہلیت میں میرے رفیق رہ چکے ہیں میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور آپ بہترین رفیق تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سائب دیکھو تمہارے وہ اخلاق جن کا تم زمانہ جاہلیت میں خیال رکھتے تھے انہیں اسلام کی حالت میں بھی برقرار رکھنا مہمان نوازی کرنا، یتیم کی عزت کا خیال رکھنا اور پڑوسی کے ساتھ اچھاسلوک کرنا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15500]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن مهاجر، ومجاهد لم يرو عن السائب، والحديث مضطرب جدا
الحكم: إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن مهاجر، ومجاهد لم يرو عن السائب، والحديث مضطرب جدا
حدیث نمبر: 15501 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ ، مُجَاهِدٍ ، قَائِدِ السَّائِبِ ، السَّائِبِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ قَائِدِ السَّائِبِ , عَنِ السَّائِبِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سائب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے کے ثواب سے آدھا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15501]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف إبراهيم بن مهاجر، و لم يوجد ترجمة قائد السائب
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف إبراهيم بن مهاجر، و لم يوجد ترجمة قائد السائب
حدیث نمبر: 15502 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ ، مُجَاهِدٍ ، قَائِدِ السَّائِبِ ، السَّائِبِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ قَائِدِ السَّائِبِ , عَنِ السَّائِبِ , أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُنْتَ شَرِيكِي، فَكُنْتَ خَيْرَ شَرِيكٍ، كُنْتَ لَا تُدَارِي وَلَا تُمَارِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سائب سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: کہ آپ میرے شریک تجارت تھے آپ بہترین شریک تھے آپ مقابلہ کرتے تھے اور نہ ہی جھگڑا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15502]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن مهاجر، و مجاهد لم يرو عن السائب، والحديث مضطرب جدا
الحكم: إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن مهاجر، و مجاهد لم يرو عن السائب، والحديث مضطرب جدا
حدیث نمبر: 15503 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَيْفٌ ، مُجَاهِدًا ، السَّائِبُ بْنُ أَبِي السَّائِبِ الْعَابِدِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ: كَانَ السَّائِبُ بْنُ أَبِي السَّائِبِ الْعَابِدِيُّ شَرِيكَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ فَجَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَقَالَ:" بِأَبِي وَأُمِّي , لَا تُدَارِي وَلَا تُمَارِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سائب جو کہ زمانہ جاہلیت میں شریک تجارت تھے سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فتح مکہ کے دن عرض کیا: کہ آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں آپ مقابلہ کرتے تھے اور نہ ہی جھگڑا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15503]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف مرسل مضطرب جدا
الحكم: إسناده ضعيف مرسل مضطرب جدا
حدیث نمبر: 15504 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، ثَابِتٌ يَعْنِي أَبَا زَيْدٍ ، هِلَالٌ يَعْنِي ابْنَ خَبَّابٍ ، مُجَاهِدٍ ، مَوْلَاهُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ يَعْنِي أَبَا زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ يَعْنِي ابْنَ خَبَّابٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ مَوْلَاهُ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ: أَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ يَبْنِي الْكَعْبَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ: وَلِي حَجَرٌ أَنَا نَحَتُّهُ بِيَدَيَّ، أَعْبُدُهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَأَجِيءُ بِاللَّبَنِ الْخَاثِرِ الَّذِي أَنْفَسُهُ عَلَى نَفْسِي، فَأَصُبُّهُ عَلَيْهِ، فَيَجِيءُ الْكَلْبُ فَيَلْحَسُهُ، ثُمَّ يَشْغَرُ، فَيَبُولُ، فَبَنَيْنَا حَتَّى بَلَغْنَا مَوْضِعَ الْحَجَرِ، وَمَا يَرَى الْحَجَرَ أَحَدٌ، فَإِذَا هُوَ وَسْطَ حِجَارَتِنَا مِثْلَ رَأْسِ الرَّجُلِ يَكَادُ يَتَرَاءَى مِنْهُ وَجْهُ الرَّجُلِ، فَقَالَ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ: نَحْنُ نَضَعُهُ، وَقَالَ آخَرُونَ: نَحْنُ نَضَعُهُ , فَقَالُوا: اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ حَكَمًا، قَالُوا: أَوَّلَ رَجُلٍ يَطْلُعُ مِنَ الْفَجِّ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: أَتَاكُمْ الْأَمِينُ، فَقَالُوا لَهُ: فَوَضَعَهُ فِي ثَوْبٍ، ثُمَّ دَعَا بُطُونَهُمْ، فَأَخَذُوا بِنَوَاحِيهِ مَعَهُ، فَوَضَعَهُ هُوَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مجاہد کے آقا کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں خانہ کعبہ کی تعمیر میں میں بھی شریک تھا میرے پاس ایک پتھر تھا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے تراشا تھا اور میں اللہ کو چھوڑ کر اس کی پرستش کرتا تھا میں بہترین قسم کا دودھ لاتا جو میرے نگاہوں میں عمدہ ہوتاتا اور میں اس لا کر بت پربہا دیتا ایک کتا آتا اسے چاٹ لیتا اور تھوڑی دیر بعد پیشاب کر کے اسے جسم سے خارج کر دیتا۔ الغرض ہم خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے ہوئے حجر اسود تک پہنچے اس وقت تک کسی نے حجر اسود کو دیکھا بھی نہیں تھا بعد میں پتہ چلا کہ وہ ہمارے پتھروں کے درمیان پڑا ہوا ہے وہ آدمی کے سر کے مشابہ تھا اور اس میں انسان کا چہرہ تک نظر آتا تھا اس موقع پر قریش کا ایک خاندان کہنے لگا کہ حجر اسود کو اس کی جگہ پر ہم رکھیں گے دوسرے نے کہا ہم رکھیں گے کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ اپنے درمیان کسی کو ثالت مقرر کر لو انہوں نے کہا اس جگہ سب سے پہلے جو آدمی آئے گا وہ ہمارے درمیان ثالث ہو گا کچھ دیر بعد وہاں سے سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے لوگ کہنے لگے کہ تمہارے پاس امین آئے ہیں پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس چیز کا تذکر ہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجر اسود کو ایک بڑے کپڑے میں رکھا اور قریش کے خاندانوں کو بلایا ان لوگوں نے اس کا ایک ایک کونہ پکڑ لیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اصل جگہ پر پہنچ کر اس اٹھایا اور اپنے دست مبارک سے اسے نصب کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15504]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وإيراد هذا الحديث فى مسند السائب بن أبى السائب نظن أنه وهم، وحقه أن يفرد
الحكم: إسناده صحيح، وإيراد هذا الحديث فى مسند السائب بن أبى السائب نظن أنه وهم، وحقه أن يفرد
حدیث نمبر: 15505 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، مُجَاهِدٍ ، السَّائِبِ بْنِ أَبِي السَّائِبِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي السَّائِبِ , أَنَّهُ كَانَ يُشَارِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْإِسْلَامِ فِي التِّجَارَة، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ جَاءَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَرْحَبًا بِأَخِي وَشَرِيكِي، كَانَ لَا يُدَارِي وَلَا يُمَارِي، يَا سَائِبُ قَدْ كُنْتَ تَعْمَلُ أَعْمَالًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا تُقْبَلُ مِنْكَ، وَهِيَ الْيَوْمَ تُقْبَلُ مِنْكَ" , وَكَانَ ذَا سَلَفٍ وَصِلَةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سائب سے مروی ہے کہ وہ اسلام سے قبل تجارت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے شریک تھے فتح مکہ کے دن وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے بھائی اور شریک تجارت کو خوش آمدید، جو مقابلہ کرتا تھا اور نہ جھگڑتا تھا سائب تم زمانہ جاہلیت میں کچھ اچھے کام کرتے تھے لیکن اس وقت وہ قبول نہیں ہوتے تھے البتہ اب قبول ہوں گے سیدنا سائب ضرورت مندوں کو قرض دیدیتے اور صلہ رحمی کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15505]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، مجاهد لم يرو عن السائب
الحكم: إسناده ضعيف، مجاهد لم يرو عن السائب