مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ الدَّارِيُّ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنُ عَبْسٍ
(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ الدَّارِيُّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ , قَال: حَدَّثَنَا شَيْخٌ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ، وَنَحْنُ فِي غَزْوَةِ رُودِسَ، يُقَالُ لَهُ: ابْنُ عَبْسٍ , قَالَ: كُنْتُ أَسُوقُ لِآلٍ لَنَا بَقَرَةً , قَالَ: فَسَمِعْتُ مِنْ جَوْفِهَا، يَا آلَ ذَرِيحْ قَوْلٌ فَصِيحْ، رَجُلٌ يَصِيحْ، أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عبس فرماتے ہیں کہ میں اپنے گھروالوں کی ایک گائے چرایا کرتا تھا ایک دن میں نے اس کے حکم سے یہ آواز سنی اے آل ذریح ایک فصیح بات ایک شخص اعلان کر کے کہہ رہا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اس کے بعد جب ہم مکہ مکر مہ پہنچے تو معلوم ہوا جہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اعلان نبوت کر دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15462]
حکم دارالسلام
هذا الأثر اسناده ضعيف، تفرد به عبيدالله بن ابي زياد
الحكم: هذا الأثر اسناده ضعيف، تفرد به عبيدالله بن ابي زياد