بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث كَیسَانَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 15445 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَمْرُو بْنُ كَثِيرٍ الْمَكِّيُّ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَيْسَانَ ، أَبِي
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ كَثِيرٍ الْمَكِّيُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَيْسَانَ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ أُسَيْدٍ، قُلْتُ: أَلَا تُحَدِّثُنِي عَنْ أَبِيكَ؟ فَقَالَ: مَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ:" رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَرَجَ مِنَ الْمَطَابِخِ حَتَّى أَتَى الْبِئْرَ، وَهُوَ مُتَّزِرٌ بِإِزَارٍ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ، فَرَأَى عِنْدَ الْبِئْرِ عَبِيدًا يُصَلُّونَ، فَحَلَّ الْإِزَارَ، وَتَوَشَّحَ بِهِ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا أَدْرِي الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن کثیر کہتے ہیں میں نے عبدالرحمن بن کیسان سے کہا کہ آپ مجھے اپنے والد کے حوالے سے کوئی حدیث کیوں نہیں سناتے انہوں نے کہا تم نے مجھ سے اس کی درخواست کی ہی کب ہے پھر کہنے لگے کہ میرے والد صاحب نے مجھے بتایا کہ انہوں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مطبح سے نکلے کنویں پر پہنچے اس وقت آپ نے صرف تہبند باندھ رکھا تھا اوپر کی چادر آپ کے جسم مبارک پر نہ تھی کنویں کے پاس آپ نے چند غلاموں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ نے تہبند کی گرہ کھول دی اور پانی کے چھینٹے مارے اور دو رکعتیں پڑھیں البتہ مجھے یہ یاد نہیں کہ وہ ظہر کی نماز تھی یا عصر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15445]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسين
الحكم: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 15446 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، عَمْرُو بْنُ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَيْسَانَ ، أَبِي كَيْسَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَيْسَانَ , قَالَ: سَأَلْتُ أَبِي كَيْسَانَ ، مَا أَدْرَكْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" رَأَيْتُهُ يُصَلِّي عِنْدَ الْبِئْرِ الْعُلْيَا بِبِئْرِ بَنِي مُطِيعٍ مُلَبَّبًا فِي ثَوْبٍ الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ، فَصَلَّاهَا رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن کیسان کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کیسان سے پوچھا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کس طرح پایا تھا انہوں نے جواب دیا میں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بئر بن مطیع نامی اونچے کنویں پر ایک کپڑے میں لپٹ کر ظہر یا عصر کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا آپ نے اس وقت دو رکعتیں پڑھی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15446]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسين
الحكم: إسناده محتمل للتحسين