(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: فَكَانَ" إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً , أَوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ"، قَالَ: فَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا، وَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، قَالَ فَأَثْرَى، وَكَثُرَ مَالُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا صخر غامدی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے کہ اے اللہ میری امت کے پہلے اوقات میں برکت عطا فرما خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ کرتے تو اس لشکر کو دن کے ابتدائی حصے میں بھیجتے تھے اور راوی حدیث سیدنا صخر تاجر آدمی تھے یہ بھی اپنے نوکر وں کو صبح سویرے ہی بھیجتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے پاس مال دولت کی کثرت ہو گئی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15443]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عمارة ، وقوله: اللهم بارك لأمتي فى بكورها فهو حسن بشواهده
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عمارة ، وقوله: اللهم بارك لأمتي فى بكورها فهو حسن بشواهده