بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث عَبدِ اللَّهِ بنِ حبشِیّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 15401 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ ، عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ , حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟، قَالَ:" إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ، وَجِهَادٌ لَا غُلُولَ فِيهِ، وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ" , قِيلَ فَأَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ , قَالَ:" طُولُ الْقُنُوتِ" , قِيلَ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" جَهْدُ الْمُقِلِّ" , قِيلَ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ" , قِيلَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ، وَنَفْسِهِ" , قِيلَ فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ؟ قَال:" مَنْ أُهَرِيقَ دَمُهُ، وَعُقِرَ جَوَادُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن حبشی سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ افضل ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایسا ایمان جس میں کوئی شک نہ ہوایساجہاد جس میں مال غنیمت کی خیانت نہ ہواور حج مبرور سائل نے پوچھا کہ کون سی نماز افضل ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لمبی نماز، سائل نے پوچھا کہ کون ساصدقہ سب سے افضل ہے فرمایا: کم مال والے کا محنت کر کے صدقہ کرنا سائل نے پوچھا کہ کون سی ہجرت سب سے افضل ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کی محرمات سے ہ وسائل نے پوچھا کہ سب سے افضل جہاد کون سا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مشرکین سے اپنی جان ومال کے ساتھ جہاد کرنا سائل نے پوچھا کہ پھر کون سی موت سب سے زیادہ افضل ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس کا خون بہادیا جائے اور گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15401]