بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اَحَادِیث شَیبَةَ بنِ عثمَانَ الحَجِّیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 15382 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، أَبِي وَائِلٍ ، شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ , قَالَ جَلَسْتُ إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ ، فَقَالَ:" جَلَسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي مَجْلِسَكَ هَذَا، فَقَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَدَعَ فِي الْكَعْبَةِ صَفْرَاءَ، وَلَا بَيْضَاءَ، إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَ النَّاسِ، قَالَ: قُلْتُ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ، قَدْ سَبَقَكَ صَاحِبَاكَ لَمْ يَفْعَلَا ذَلِكَ، فَقَالَ: هُمَا الْمَرْءَانِ يُقْتَدَى بِهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو وائل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا شیبہ بن عثمان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ وہ کہنے لگے کہ تمہاری اس جگہ پر ایک مرتبہ سیدنا عمر بیٹھے تھے اور انہوں نے فرمایا: تھا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ خانہ کعبہ میں کوئی سونا چاندی نہ چھوڑوں سب کچھ لوگوں میں تقسیم کر دوں میں نے ان سے عرض کیا: کہ آپ یہ کام نہیں کر سکتے کیونکہ آپ سے پہلے آپ کے دو ساتھی گزر چکے ہیں انہوں نے یہ کام نہیں کیا سیدنا عمر نے فرمایا: وہی تو دو آدمی تھے جن کی اقتداء کی جاسکتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15382]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1594
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1594
حدیث نمبر: 15383 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، وَاصِلٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ , قَالَ جَلَسْتُ إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ , فَقَالَ:" جَلَسَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَجْلِسَكَ هَذَا، فَقَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَدَعَ فِيهَا صَفْرَاءَ، وَلَا بَيْضَاءَ، إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ، قَالَ: لِمَ؟ قُلْتُ: لَمْ يَفْعَلْهُ صَاحِبَاكَ، قَالَ: هُمَا الْمَرْءَانِ يُقْتَدَى بِهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو وائل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا شیبہ بن عثمان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ وہ کہنے لگے کہ تمہاری اس جگہ پر ایک مرتبہ سیدنا عمر بیٹھے تھے اور انہوں نے فرمایا: تھا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ خانہ کعبہ میں کوئی سونا چاندی نہ چھوڑوں سب کچھ لوگوں میں تقسیم کر دوں میں نے ان سے عرض کیا: کہ آپ یہ کام نہیں کر سکتے کیونکہ آپ سے پہلے آپ کے دوساتھی گزر چکے ہیں انہوں نے یہ کام نہیں کیا سیدنا عمر نے فرمایا: وہی تو دو آدمی تھے جن کی اقتداء کی جاسکتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15383]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7275
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7275