بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد حَكِیمِ بنِ حِزَام عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 19
حدیث نمبر: 15311 مسند احمد
هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، أَبُو بِشْرٍ ، يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَأْتِينِي الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي الْبَيْعَ، لَيْسَ عِنْدِي مَا أَبِيعُهُ، ثُمَّ أَبِيعُهُ مِنَ السُّوقِ، فَقَالَ:" لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: ہے یا رسول اللہ! میرے پاس ایک آدمی آتا ہے اور مجھ سے کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے لیکن اس وقت میرے پاس وہ چیز نہیں ہو تی کیا میں اسے بازار سے لے کر بیچ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اسے مت بیچو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15311]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، يوسف بن ماهك لم يسمع من حكيم بن حزام
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، يوسف بن ماهك لم يسمع من حكيم بن حزام
حدیث نمبر: 15312 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بِشْرٍ ، يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ يُحَدِّثُ , عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى أَنْ لَا أَخِرَّ إِلَّا قَائِمًا، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي الْبَيْعَ، وَلَيْسَ عِنْدِي، أَفَأَبِيعُهُ؟ قَالَ:" لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست حق پرست پر اس شرط سے بیعت کی تھی کہ میں ساری رات خراٹے لے کر نہیں گزاروں گا بلکہ قیام کر وں گا۔ سیدنا حکیم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: ہے یا رسول اللہ! میرے پاس ایک آدمی آتا ہے اور مجھ سے کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے لیکن اس وقت میرے پاس وہ چیز نہیں ہو تی کیا میں اسے بازار سے لے کر بیچ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اسے مت بیچو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15312]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: بايعت رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم على أن لا أخر إلا قائما، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، يوسف بن ماهك لم يسمع من حكيم بن حزام
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: بايعت رسول الله ﷺ على أن لا أخر إلا قائما، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، يوسف بن ماهك لم يسمع من حكيم بن حزام
حدیث نمبر: 15313 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَيُّوبُ ، يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ:" نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيعَ مَا لَيْسَ عِنْدِي" , قَالَ: أَيُّوبُ أَوْ قَالَ: سِلْعَةً لَيْسَتْ عِنْدِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اس بات سے منع فرمایا ہے جو چیز میرے پاس نہیں ہے اسے فروخت کر وں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15313]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، يوسف بن ماهك لم يسمع من حكيم بن حزام
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، يوسف بن ماهك لم يسمع من حكيم بن حزام
حدیث نمبر: 15314 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الْخَلِيلِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْهَاشِمِيِّ ، حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا، رُزِقَا بَرَكَةَ بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا، مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں اور اگر وہ دونوں سچ بولیں اور ہر چیز واضح کر دیں تو انہیں اس بیع کی برکت نصیب ہو گی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور کچھ چھپائیں تو ان سے بیع کی برکت ختم کر دی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15314]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2108، م: 1532
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2108، م: 1532
حدیث نمبر: 15315 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سعيد ، شُعْبَةَ ، أَبُو بِشْرٍ ، يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سعيد ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يُطْلَبُ مِنِّي الْمَتَاعُ وَلَيْسَ عِنْدِي، أَفَأَبِيعُهُ لَهُ؟ قَالَ:" لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس ایک آدمی آتا ہے اور مجھ سے کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے لیکن اس وقت میرے پاس وہ چیز نہیں ہو تی کیا میں اسے بازار سے لے کر بیچ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اسے مت بیچو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15315]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، يوسف بن ماهك لم يسمع من حكيم بن حزام
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، يوسف بن ماهك لم يسمع من حكيم بن حزام
حدیث نمبر: 15316 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، رَجُلٍ ، يُوسُفَ بْنَ مَاهَكَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَصْمَةَ ، حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ رَجُلٍ , أَنَّ يُوسُفَ بْنَ مَاهَكَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَصْمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَشْتَرِي بُيُوعًا، فَمَا يَحِلُّ لِي مِنْهَا، وَمَا يُحَرَّمُ عَلَيَّ، قَالَ:" فَإِذَا اشْتَرَيْتَ بَيْعًا، فَلَا تَبِعْهُ حَتَّى تَقْبِضَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ یا رسول اللہ! میں خریدو فروخت کرتا رہتا ہوں اس میں میرے لئے کیا حلال ہے اور کیا حرام؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی چیز خریدا کر و تو اسے اس وقت تک آگے نہ بیچا کر و جب تک اس پر قبضہ نہ کر لو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15316]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 15317 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، حَكِيمِ بْنِ حِزَام
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَام ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ خَيْرَ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہوتا ہے جو کچھ مالداری باقی رکھ کر کیا جائے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے تم صدقہ خیرات میں ان لوگوں سے آغاز کر و جو تمہاری ذمہ داری میں ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15317]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1427، م: 1034
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1427، م: 1034
حدیث نمبر: 15318 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ عَتَاقَةٍ، وَصِلَةِ رَحِمٍ، هَلْ لِي فِيهَا أَجْرٌ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَف مِنْ خَيْرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ بہت سے وہ کام جو میں زمانہ جاہلیت میں کرتا تھا مثلا غلاموں کو آزاد کرنا اور صلہ رحمی کرنا وغیرہ تو کیا مجھے ان کا اجر ملے گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: زمانہ جاہلیت سے قبل از نیکی کے جتنے بھی کام کئے ان کے ساتھ مسلمان ہوئے ان کا اجر وثواب تمہیں ضرور ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15318]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1436، م: 123
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1436، م: 123
حدیث نمبر: 15319 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ فَقَالَ:" أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ" , وَالتَّحَنُّثُ: التَّعَبُّدُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ بہت سے وہ کام جو میں زمانہ جاہلیت میں کرتا تھا مثلا غلاموں کو آزاد کرنا اور صلہ رحمی کرنا وغیرہ تو کیا مجھے ان کا اجر ملے گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: زمانہ جاہلیت سے قبل نیکی کے جتنے بھی کام کئے ان کے ساتھ مسلمان ہوئے ان کا اجر وثواب تمہیں ضرور ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15319]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1436، م: 123
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1436، م: 123
حدیث نمبر: 15320 مسند احمد
سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ ، سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ
(حديث مرفوع) قال: عَبْد اللَّهِ بن أحمد , قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّدَقَاتِ , أَيُّهَا أَفْضَلُ؟ قَالَ" عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا صدقہ افضل ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو قریبی ضرورت مند رشتہ دار پر ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15320]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سفيان بن حسين
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سفيان بن حسين
حدیث نمبر: 15321 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ ، حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَالِ؟ فَأَلْحَفْتُ، فَقَالَ:" يَا حَكِيمُ، مَا أنْكَرَ مَسْأَلَتَكَ يَا حَكِيمُ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، وَإِنَّمَا هُوَ مَعَ ذَلِكَ أَوْسَاخُ أَيْدِي النَّاسِ، وَيَدُ اللَّهِ فَوْقَ يَدِ الْمُعْطِي، وَيَدُ الْمُعْطِي فَوْقَ يَدِ الْمُعْطَى، وَأَسْفَلُ الْأَيْدِي يَدُ الْمُعْطَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ مال کی درخواست کی اور کئی مرتبہ کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حکیم مجھے تمہاری درخواست پر تمہیں دینے میں کوئی انکار نہیں ہے لیکن حکیم یہ مال سرسبز شیریں ہوتا ہے نیز اس کے ساتھ لوگوں کے ہاتھوں کا میل بھی ہوتا ہے اللہ کا ہاتھ دینے والے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور دینے والے کا ہاتھ لینے والے کے اوپر ہوتا ہے اور سب سے نچلا ہاتھ لینے والے کا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15321]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15322 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَتَادَةُ ، أَبِي الْخَلِيلِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ، مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا، بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا، مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں اگر وہ دونوں سچ بولیں اور ہر چیز واضح کر دیں تو انہیں اس بیع کی برکت نصیب ہو گی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور کچھ چھپائیں تو ان سے بیع کی برکت ختم کر دی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15322]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2108، م: 1532
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2108، م: 1532
حدیث نمبر: 15323 مسند احمد
عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ , قَالَ: كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبَّ رَجُلٍ فِي النَّاسِ إِلَيَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا تَنَبَّأَ وَخَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ، شَهِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ الْمَوْسِمَ وَهُوَ كَافِرٌ، فَوَجَدَ حُلَّةً لِذِي يَزَنَ تُبَاعُ، فَاشْتَرَاهَا بِخَمْسِينَ دِينَارًا لِيُهْدِيَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمَ بِهَا عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ، فَأَرَادَهُ عَلَى قَبْضِهَا هَدِيَّةً، فَأَبَى، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّا لَا نَقْبَلُ شَيْئًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ أَخَذْنَاهَا بِالثَّمَنِ" , فَأَعْطَيْتُهُ حِينَ أَبَى عَلَيَّ الْهَدِيَّةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زمانہ جاہلیت میں بھی مجھے سب سے زیادہ محبوب تھے جب آپ نے اعلان نبوت فرمایا: اور مدینہ منورہ چلے گئے تو ایک مرتبہ حکیم موسم حج میں جبکہ وہ کافر ہی تھے شریک ہوئے انہوں نے دیکھا کہ ذی یزن کا ایک قیمتی جوڑا فروخت ہو رہا ہے انہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ پیش کرنے کے لئے پچاس دینار میں خرید لیا اور وہ لے کر مدینہ منورہ پہنچتے تو انہوں نے چاہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے وصول کر یں لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ ہم مشرکین کی کوئی چیز قبول نہیں کرتے البتہ اگر تم چاہتے ہو تو ہم سے قیمت لے لو جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے وہ جوڑا ہدیتہ لینے سے انکار کر دیا تو میں نے قیمتا ہی وہ آپ کو دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15323]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15324 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي الْخَلِيلِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ، مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا"، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابيِ: الْخِيَارُ ثَلَاثُ مَرَّاتٍ، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا، فَعَسَى أَنْ يَرْبَحَا رِبْحًا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا، مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں عبداللہ کہتے ہیں میں نے اپنے والد صاحب کی کتاب میں یہ اضافہ بھی پایا ہے کہ اگر وہ دونوں سچ بولیں اور ہر چیز واضح کر دیں تو انہیں بیع کی برکت نصیب ہو گی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور کچھ چھپائیں تو ان سے بیع کی برکت ختم کر دی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15324]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2108، م: 1532
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2108، م: 1532
حدیث نمبر: 15325 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ، مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا، بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا، مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں اگر وہ دونوں سچ بولیں اور ہر چیز واضح کر دیں تو انہیں بیع کی برکت نصیب ہو گی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور کچھ چھپائیں تو ان سے بیع کی برکت ختم کر دی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15325]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2108، م: 1532، محمد بن جعفر سمع من ابن أبي عروبة بعد الاختلاط، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 2108، م: 1532، محمد بن جعفر سمع من ابن أبي عروبة بعد الاختلاط، لكنه توبع
حدیث نمبر: 15326 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، مَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَعْف يُعِفَّهُ اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقہ خیرات میں ان لوگوں سے آغاز کیا کر و جو تمہاری ذمہ داری میں ہوں اور جو شخص استغناء کرتا ہے اللہ اسے مستغنی کر دیتا ہے۔ اور جو بچنا چاہتا ہے اللہ اسے بچالیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15326]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1427، م: 1034
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1427، م: 1034
حدیث نمبر: 15327 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبَا الْخَلِيلِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ، مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا، بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا، مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا" , وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: مُحِقَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں اگر وہ دونوں سچ بولیں اور ہر چیز واضح کر دیں تو انہیں بیع کی برکت نصیب ہو گی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور کچھ چھپائیں تو ان سے بیع کی برکت ختم کر دی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15327]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2108، م: 1532
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2108، م: 1532
حدیث نمبر: 15328 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شعبه
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شعبه , عَنْ مِثْلِهِ , قَالَ:" مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15328]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2108، م: 1532
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2108، م: 1532
حدیث نمبر: 15329 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، صَفْوَانَ بْنَ مَوْهَبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ مَوْهَبٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ , قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَمْ يَأْتِنِي أَوَلَمْ يَبْلُغْنِي، أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ أَنَّكَ تَبِيعُ الطَّعَامَ، قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلَا تَبِعْ طَعَامًا حَتَّى تَشْتَرِيَهُ وَتَسْتَوْفِيَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا ایسا نہیں ہے کہ جیسے مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم غلے کی خریدو فروخت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب غلہ خریدا کر و تو اسے اس وقت تک آگے نہ بیچا کر و جب تک اس پر قبضہ نہ کر لو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15329]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال صفوان بن موهب، وعبدالله بن محمد مجهول، لكنهما توبعا
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال صفوان بن موهب، وعبدالله بن محمد مجهول، لكنهما توبعا