هُشَيْمٌ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، قَالَ: جَاءَتْ الْغُمَيْصَاءُ أَوْ الرُّمَيْصَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو زَوْجَهَا، وَتَزْعُمُ أَنَّهُ لَا يَصِلُ إِلَيْهَا، فَمَا كَانَ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جَاءَ زَوْجُهَا، فَزَعَمَ أَنَّهَا كَاذِبَةٌ، وَلَكِنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ لَكِ ذَلِكَ، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ رَجُلٌ غَيْرُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبیداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت - جس کا نام غمیصاء یا رمیصاء تھا - نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے خاوند کی شکایت لے کر آئی، اس کا کہنا یہ تھا کہ اس کا خاوند اس کے قریب پہنچنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا، تھوڑی دیر بعد اس کا شوہر بھی آ گیا، اس کا خیال یہ تھا کہ اس کی بیوی جھوٹ بول رہی ہے، اصل بات یہ ہے کہ وہ اپنے پہلے خاوند سے دوبارہ شادی کرنا چاہتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس عورت سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”تمہارے لئے ایسا کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک تمہارا شہد اس (پہلے شوہر) کے علاوہ کوئی دوسرا مرد نہ چکھ لے۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1837]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، وقد اختلف فى هذا الإسناد على سليمان بن يسار .
الحكم: رجاله ثقات، وقد اختلف فى هذا الإسناد على سليمان بن يسار .