بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمِّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 27632 مسند احمد
أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أُمِّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: حدثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةِ ، قَالَتْ: " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُلَامٍ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ بِهِ، فَنُضِحَ , وَأُتِيَ بِجَارِيَةٍ، فَبَالَتْ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ بِهِ فَغُسِلَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک چھوٹے بچے کو لایا گیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پیشاپ کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا تو اس جگہ پر پانی کے چھینٹے مار دیئے گئے، پھر ایک بچی کو لایا گیا، اس نے پیشاپ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے دھونے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27632]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عمرو ابن شعيب لم يسمع من أم كرز
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عمرو ابن شعيب لم يسمع من أم كرز
حدیث نمبر: 27633 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةَ ، أَبِي الشَّعْثَاءِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، قَالَ: " خَرَجْتُ حَاجًّا، فَجِئْتُ حَتَّى دَخَلْتُ الْبَيْتَ، فَلَمَّا كُنْتُ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ، مَضَيْتُ حَتَّى لَزِقْتُ بِالْحَائِطِ، فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ، فَصَلَّى إِلَى جَنْبِي، فَصَلَّى أَرْبَعًا، فَلَمَّا صَلَّى، قُلْتُ: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَيْتِ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ: أَنَّهُ صَلَّى هَاهُنَا، فَقُلْتُ كَمْ صَلَّى؟ قَالَ: عَلَى هَذَا أَجِدُنِي أَلُومُ نَفْسِي، إِنِّي مَكَثْتُ مَعَهُ عُمُرًا لَمْ أَسْأَلْهُ كَمْ صَلَّى، ثُمَّ حَجَجْتُ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، فَجِئْتُ، فَقُمْتُ فِي مَقَامِهِ، فَجَاءَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فَصَلَّى فِيهِ أَرْبَعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو الشعثاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حج کے ارادے سے نکلا، بیت اللہ شریف میں داخل ہوا، جب دو ستونوں کے درمیان پہنچا تو جا کر ایک دیوار سے چمٹ گیا، اتنی دیر میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما آ گئے اور میرے پہلو میں کھڑے ہو کر چار رکعتیں پڑھیں، جب وہ نماز سے فارغ ہو گئے، تو میں نے ان سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ میں کہاں نماز پڑھی تھی، انہوں نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہاں، مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھی ہے، میں نے ان سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اسی پر تو آج تک میں اپنے آپ کو ملامت کرتا ہوں کہ میں نے ان کے ساتھ ایک طویل عرصہ گزارا لیکن یہ نہ پوچھ سکا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔ اگلے سال میں پھر حج کے ارادے سے نکلا اور اسی جگہ پر جا کر کھڑا ہو گیا، جہاں پچھلے سال کھڑا ہوا تھا، اتنی دیر میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ آ گئے اور پھر اس میں چار رکعتیں پڑھیں۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27633]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح