بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 27624 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، إِسْرَائِيلُ ، زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَبِي يَزِيدَ الضَّنِّيِّ ، مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ , قَالَا: حدثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الضَّنِّيِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدِ الزِّنَا، قَالَ: " لَا خَيْرَ فِيهِ نَعْلَانِ أُجَاهِدُ بِهِمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ زِنًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا (جو نبی کی آزاد کردہ باندی تھیں) سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ناجائز بچے کے متعلق پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی خیر نہیں ہوتی، میرے نزدیک وہ دو جوتیاں جنہیں پہن کر میں اللہ کی راہ میں جہاد کروں، کسی ولد الزنا کو آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27624]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى يزيد الضبي
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى يزيد الضبي
حدیث نمبر: 27625 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، إِسْرَائِيلُ ، زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَبِي يَزِيدَ الضَّنِّيِّ ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الضَّنِّيِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ صَائِمٌ، قَالَ:" قَدْ أَفْطَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو بوسہ دے دے اور وہ دونوں روزے سے ہوں تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان کا روزہ ٹوٹ گیا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27625]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى يزيد الضبي، وقد ثبت أنه صلى الله عليه و آله وسلم كان يقبل وهو صائم، انظر: 25613
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى يزيد الضبي، وقد ثبت أنه ﷺ كان يقبل وهو صائم، انظر: 25613
حدیث نمبر: 27626 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، عِيسَى ، ثَوْرٌ ، زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، أَخِيهِ ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ: حدثَنَا عِيسَى ، قَالَ: ثَنَا ثَوْرٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ أَخِيهِ ، أَنَّ مَيْمُونَةَ مَوْلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَفْتِنَا فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ فَقَالَ: " أَرْضُ الْمَنْشَرِ وَالْمَحْشَرِ، ائْتُوهُ فَصَلُّوا فِيهِ، فَإِنَّ صَلَاةً فِيهِ كَأَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ"، قَالَتْ: أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يُطِقْ أَنْ يَتَحَمَّلَ إِلَيْهِ، أَوْ يَأْتِيَهُ؟ قَالَ:" فَلْيُهْدِ إِلَيْهِ زَيْتًا يُسْرَجُ فِيهِ، فَإِنَّ مَنْ أَهْدَى لَهُ، كَانَ كَمَنْ صَلَّى فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہمیں بیت المقدس کے متعلق کچھ بتائیے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ اٹھائے جانے اور جمع کیے جانے کا علاقہ ہے، تم وہاں جا کر اس میں نماز پڑھا کرو، کیونکہ بیت المقدس میں ایک نماز پڑھنا دوسری جگہوں پر ایک ہزار نمازوں کے برابر ہے، انہوں نے عرض کیا کہ بتایئے کہ اگر کسی آدمی میں وہاں جانے کی طاقت نہ ہو، وہ کیا کرے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے چاہیے کہ زیتون کا تیل بھیج دے جو وہاں چراغوں میں جلایا جائے، کیونکہ اس کی طرف ہدیہ بھیجنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس نے اس میں نماز پڑھی ہو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27626]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وهذا من منكرات زياد بن أبى سودة، وقد اختلف فيه
الحكم: إسناده ضعيف، وهذا من منكرات زياد بن أبى سودة، وقد اختلف فيه
حدیث نمبر: 27627 مسند احمد
أَبُو مُوسَى الْهَرَوِيُّ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْهَرَوِيُّ ، قَالَ: ثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ بِإِسْنَادِهِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27627]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده ضعيف، وانظر ما قبله