حُسَيْنٌ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، إِسْرَائِيلُ ، زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَبِي يَزِيدَ الضَّنِّيِّ ، مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ , قَالَا: حدثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الضَّنِّيِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدِ الزِّنَا، قَالَ: " لَا خَيْرَ فِيهِ نَعْلَانِ أُجَاهِدُ بِهِمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ زِنًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا (جو نبی کی آزاد کردہ باندی تھیں) سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ”ناجائز بچے“ کے متعلق پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں کوئی خیر نہیں ہوتی، میرے نزدیک وہ دو جوتیاں جنہیں پہن کر میں اللہ کی راہ میں جہاد کروں، کسی ولد الزنا کو آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27624]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى يزيد الضبي
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى يزيد الضبي