بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مِنْ حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ عُوَيْمِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 35
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 27498 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , قَالَا: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " أَمَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ؟" , قَالُوا: نَحْنُ أَضْعَفُ مِنْ ذَلِكَ وَأَعْجَزُ , قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ , فَجَعَلَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , جُزْءًا مِنْ أَجْزَاءِ الْقُرْآنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ تم ایک رات میں تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہو؟ صحابہ کرام پر بات بہت مشکل معلوم ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ اس کی طاقت کس کے پاس ہوگی؟ ہم بہت کمزور اور عاجز ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے تین حصے کئے ہیں اور سورت اخلاص کو ان میں سے ایک جزو قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27498]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 811
الحكم: إسناده صحيح، م: 811
حدیث نمبر: 27499 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبَا الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ , يُحَدِّثُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ , قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَذَاكَرُ مَا يَكُونُ , إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَبَلٍ زَالَ عَنْ مَكَانِهِ , فَصَدِّقُوا , وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَجُلٍ تَغَيَّرَ عَنْ خُلُقِهِ , فَلَا تُصَدِّقُوا بِهِ , وَإِنَّهُ يَصِيرُ إِلَى مَا جُبِلَ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پاس بیٹھے آئندہ پیش آنے والے حالات پر مذاکرہ کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم یہ بات سنو کہ ایک پہاڑ اپنی جگہ سے ہل گیا ہے تو اس کی تصدیق کرسکتے ہو لیکن اگر یہ بات سنو کہ کسی آدمی کے اخلاق بدل گئے ہیں تو اس کی تصدیق نہ کرنا کیونکہ وہ پھر اپنی فطرات کی طرف لوٹ جائے گا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27499]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، الزهري لم يدرك أبا الدرداء
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، الزهري لم يدرك أبا الدرداء
حدیث نمبر: 27500 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَهُوَ مُغْضَبٌ , فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ؟ قَالَ:" وَاللَّهِ لَا أَعْرِفُ فِيهِمْ مِنْ أَمْرِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا , إِلَّا أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام دردا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو نہایت غصے کی حالت میں تھے، انہوں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ واللہ! میں لوگو میں نبی کی کوئی تعلیم نہیں دیکھ رہا، اب تو صرف اتنی بات رہ گئی ہے کہ وہ اکٹھے ہو کر نماز پڑھ لیتے ہیں۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27500]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 650
الحكم: إسناده صحيح، خ: 650
حدیث نمبر: 27501 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، الْأَعْمَشِ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَهُوَ مُغْضَبٌ , فَقُلْتُ لَهُ: مَا لَكَ؟ فَقَالَ: " مَا أَعْرِفُ مِنْ أَمْرِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الصَّلَاةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام دردا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو نہایت غصے کی حالت میں تھے، انہوں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ واللہ! میں لوگو میں نبی کی کوئی تعلیم نہیں دیکھ رہا، اب تو صرف اتنی بات رہ گئی ہے کہ وہ اکٹھے ہو کر نماز پڑھ لیتے ہیں۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27501]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 650
الحكم: إسناده صحيح، خ: 650
حدیث نمبر: 27502 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، الْحُسَيْنُ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ ، أَبَاهُ ، مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، أَبَا الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ , أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , " قَاءَ , فَأَفْطَرَ" , قَالَ: فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ , فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَاءَ فَأَفْطَرَ , قَالَ: صَدَقَ، أَنَا صَبَبْتُ لَهُ وَضُوءَهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کو قئی آئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا روزہ ختم کردیا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نبی کے آزاد غلام حضرت ثوبان سے دمشق کی مسجد میں ملا اور ان سے عرض کیا کہ حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ نبی کو قئی آئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا روزہ ختم کردیا، انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا ہے، نبی کے لئے پانی میں نے ہی انڈیلا تھا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27502]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27503 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، أَبُو يَعْقُوبَ يَعْنِي إِسْحَاقَ بْنَ عُثْمَانَ الْكِلَابِيَّ ، خَالِدَ بْنَ دُرَيْكٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ , قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْقُوبَ يَعْنِي إِسْحَاقَ بْنَ عُثْمَانَ الْكِلَابِيَّ , قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدَ بْنَ دُرَيْكٍ , يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَجْمَعُ اللَّهُ فِي جَوْفِ رَجُلٍ غُبَارًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَدُخَانَ جَهَنَّمَ , وَمَنْ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , حَرَّمَ اللَّهُ سَائِرَ جَسَدِهِ عَلَى النَّارِ , وَمَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ , بَاعَدَ اللَّهُ عَنْهُ النَّارَ مَسِيرَةَ أَلْفِ سَنَةٍ لِلرَّاكِبِ الْمُسْتَعْجِلِ , وَمَنْ جُرِحَ جِرَاحَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ , خَتَمَ لَهُ بِخَاتَمِ الشُّهَدَاءِ , لَهُ نُورٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , لَوْنُهَا مِثْلُ لَوْنِ الزَّعْفَرَانِ , وَرِيحُهَا مِثْلُ رِيحِ الْمِسْكِ , يَعْرِفُهُ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ , يَقُولُونَ: فُلَانٌ عَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ , وَمَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ , وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایک آدمی کے پیٹ میں جہاد فی سبیل اللہ کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں فرمائے گا، جس شخص کے قدم راہ اللہ میں غبار آلود ہوجائیں، اللہ اس کے سارے جسم کو آگ پر حرام قرار دے دے گا، جو شخص راہ اللہ میں ایک دن کا روزہ رکھ لے، اللہ اس سے جہنم کو ایک ہزار سال کے فاصلے پر دور کردیتا ہے جو ایک تیز رفتار سوار طے کرسکے، جس شخص کو راہ اللہ میں کوئی زخم لگ جائے یا تکلیف پہنچ جائے تو قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ رستا ہوا آئے گا لیکن اس دن اس کا رنگ زعفران جیسا اور مہک مشک جیسی ہوگی اور جس شخص کو راہ اللہ میں کوئی زخم لگ جائے تو اس پر شہدا کی مہر لگ جاتی ہے، اولین و آخرین اسے اس کے ذریعے پہچان کر کہیں گے کہ فلاں آدمی پر شہدا کی مہر اور جو مسلمان آدمی راہ اللہ میں اونٹنی کے تھنوں میں دودھ اترنے کے وقفے برابر قتال کرے، اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27503]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بشواهده دون قوله: "ألف سنة للراكب المستعجل.." وقوله: يعرفه بها الأولون...الشهداء، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، خالد بن دريك لم يدرك أبا الدرداء
الحكم: حديث صحيح بشواهده دون قوله: "ألف سنة للراكب المستعجل.." وقوله: يعرفه بها الأولون...الشهداء، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، خالد بن دريك لم يدرك أبا الدرداء
حدیث نمبر: 27504 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ ، أَبُو عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ , وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْنَا فِي بَعْضِ أَسْفَارِنَا , وَإِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ , وَمَا فِي الْقَوْمِ صَائِمٌ , إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ" , وَقَالَ أَبُو عَامِرٍ : عُثْمَانُ بْنُ حَيَّانَ وَحْدَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کے ہمراہ کسی سفر میں تھے اور گرمی کی شدت سے اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھتے جاتے تھے اور اس موقع پر نبی اور حضرت عبداللہ بن رواحہ کے علاوہ ہم میں سے کسی کا روزہ نہ تھا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27504]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1945، م: 1122
الحكم: حديث صحيح، خ: 1945، م: 1122
حدیث نمبر: 27505 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، ثَابِتٍ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنِ ثَابِتٍ , أَوْ عَنْ أَبِي ثَابِتٍ , أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ مَسْجِدَ دِمَشْقَ , فَقَالَ: اللَّهُمَّ آنِسْ وَحْشَتِي , وَارْحَمْ غُرْبَتِي , وَارْزُقْنِي جَلِيسًا حَبِيبًا صَالِحًا , فَسَمِعَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ: لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا , لَأَنَا أَسْعَدُ بِمَا قُلْتَ مِنْكَ , سمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ سورة فاطر آية 32 , قَالَ: الظَّالِمُ يُؤْخَذُ مِنْهُ فِي مَقَامِهِ , فَذَلِكَ الْهَمُّ وَالْحَزَنُ , وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ سورة فاطر آية 32 , يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا , وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ سورة فاطر آية 32 , فَذَلِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ثاقب یا ابوثاقب سے مروی ہے کہ ایک آدمی مسجد دمشق میں داخل ہوا اور یہ دعاء کی کہ اے اللہ! مجھے تنہائی میں کوئی مونس عطاء فرما، میری اجنبیت پر ترس کھا اور مجھے اچھا رفیق عطاء فرما، حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ نے اس کی یہ دعاء سن لی اور فرمایا کہ اگر تم یہ دعاء صدقے دل سے کر رہے ہو تو اس دعاء کا میں تم سے زیادہ سعادت یافتہ ہوں، میں نے نبی کو قرآن کریم کی اس آیت کی تفسیر میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ظالم سے اس کے اعمال کا حساب کتاب اسی مقام پر لیا جائے گا اور یہی غم و اندازہ ہوگا یعنی کچھ لوگ درمیانے درجے کے ہوں گے، ان کا آسان حساب لیا جائے گا یہ وہ لوگ ہوں گے جو جنت میں بلا حساب کتاب داخل ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27505]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ثابت أو أبو ثابت غير منسوب، وقد اختلف فى إسناده على الأعمش
الحكم: إسناده ضعيف، ثابت أو أبو ثابت غير منسوب، وقد اختلف فى إسناده على الأعمش
حدیث نمبر: 27506 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، بَقِيَّةُ ، ثَابِتُ بْنُ عَجْلَانَ ، الْقَاسِمُ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عَجْلَانَ , قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ مَوْلَى بَنِي يَزِيدَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَغْرِسُ غَرْسًا بِدِمَشْقَ , فَقَالَ لَهُ: أَتَفْعَلُ هَذَا وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! فَقَالَ: لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " مَنْ غَرَسَ غَرْسًا لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ آدَمِيٌّ , وَلَا خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةً" , قَالَ عَبْد اللَّهِ , قَالَ أَبِي , قَالَ الْأَشْجَعِيُ , يَعْنِي عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي زِيَادٍ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ ایک دن دمشق میں ایک پودا لگا رہے تھے کہ ایک آدمی ان کے پاس سے گذرا اور کہنے لگا کہ آپ نبی کے صحابی ہو کر یہ کام کر رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا جلد بازی سے کام نہ لو، میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی پودا لگائے، اسے جو انسان یا اللہ کی کوئی مخلوق کھائے، وہ اس کے لئے صدقہ بن جاتا ہے۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27506]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل بقية ، وهو يدلس تدليس التسوية
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل بقية ، وهو يدلس تدليس التسوية
حدیث نمبر: 27507 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، عَاصِمٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ , لَا تَخْتَصَّ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ دُونَ اللَّيَالِي , وَلَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ دُونَ الْأَيَّامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابودرداء دوسری راتوں کو چھوڑ کر صرف شب جمعہ کو قیام کے لئے اور دوسرے دنوں کو چھوڑ کر صرف جمعہ کے دن کو روزے کے لئے مخصوص نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27507]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، محمد بن سيرين لم يسمع من أبى الدرداء، واختلف فيه على محمد بن سيرين
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، محمد بن سيرين لم يسمع من أبى الدرداء، واختلف فيه على محمد بن سيرين
حدیث نمبر: 27508 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصَّلَاةِ , وَالصِّيَامِ , وَالصَّدَقَةِ؟" , قَالُوا: بَلَى , قَالَ:" إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ هِيَ الْحَالِقة" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں نماز، روزہ اور زکوٰۃ سے افضل درجے کا عمل نہ بتاؤں؟ صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جن لوگوں میں جدائیگی ہوگئی ہو، ان میں صلح کروانا، جبکہ ایسے لوگوں میں پھوٹ اور فساد ڈالنا مونڈنے والی چیز ہے (جو دین کو مونڈ کر رکھ دیتی ہے)۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27508]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27509 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَمِعَ مِنْ رَجُلٍ حَدِيثًا لَا يَشْتَهِي أَنْ يُذْكَرَ عَنْهُ , فَهُوَ أَمَانَةٌ , وَإِنْ لَمْ يَسْتَكْتِمْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی آدمی کی کوئی بات سنے اور وہ یہ نہ چاہتا ہو کہ اس بات کو اس کے حوالے سے ذکر کیا جائے تو وہ امانت ہے، اگرچہ وہ سے مخفی رکھنے کے لئے نہ کہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27509]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن الوليد، وعبدالله بن عبيد لم يسمع من أبى الدرداء
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن الوليد، وعبدالله بن عبيد لم يسمع من أبى الدرداء
حدیث نمبر: 27510 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، ذَكْوَانَ ، رَجُلٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ ذَكْوَانَ , عَنْ رَجُلٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة يونس آية 64 , قَالَ: " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آیت قرآنی لھم البشری فی الحیاۃ الدنیا میں بشری کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد اچھے خواب ہیں جو کوئی مسلمان دیکھے یا اس کے حق میں کوئی دوسرا دیکھے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27510]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبى الدرداء، وقد اختلف فى إسناده
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبى الدرداء، وقد اختلف فى إسناده
حدیث نمبر: 27511 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ , قَالَ: كَانَ فِينَا رَجُلٌ لَمْ تَزَلْ بِهِ أُمُّهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ حَتَّى تَزَوَّجَ , ثُمَّ أَمَرَتْهُ أَنْ يُفَارِقَهَا , فَرَحَلَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ بِالشَّامِ , فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي لَمْ تَزَلْ بِي حَتَّى تَزَوَّجْتُ , ثُمَّ أَمَرَتْنِي أَنْ أُفَارِقَ , قَالَ: مَا أَنَا بِالَّذِي آمُرُكَ أَنْ تُفَارِقَ , وَمَا أَنَا بِالَّذِي آمُرُكَ أَنْ تُمْسِكَ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ" , فَأَضِعْ ذَلِكَ الْبَابَ , أَوْ احْفَظْهُ , قَالَ: فَرَجَعَ وَقَدْ فَارَقَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو عبد الرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ ہم میں ایک آدمی تھا، اس کی والدہ اس کے پیچھے پڑی رہتی تھی کہ شادی کرلو، جب اس نے شادی کرلی تب اس کی ماں نے اسے حکم دیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے (اس نے انکار کردیا) پھر وہ آدمی حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں تمہیں اسے طلاق دینے کا مشورہ دیتا ہوں اور نہ ہی اپنے پاس رکھنے کا، البتہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ باپ جنت کا درمیانہ دروازہ ہے، اب تمہاری مرضی ہے کہ اس کی حفاظت کرو یا اسے چھوڑ دو، وہ آدمی چلا گیا اور اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27511]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 27512 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ السَّعْدِيِّ ، الشَّيْخُ ، أَبَا الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ السَّعْدِيِّ , قَالَ: أَمَرَنِي نَاسٌ مِنْ قَوْمِي أَنْ أَسْأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ , عَنْ سِنَانٍ, يُحَدِّدُونَهُ وَيُرَكِّزُونَهُ فِي الْأَرْضِ , فَيُصْبِحُ وَقَدْ قَتَلَ الضَّبُعَ , أَتُرَاهُ ذَكَاتَهُ؟ قَالَ: فَجَلَسْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , فَإِذَا عِنْدَهُ شَيْخٌ أَبْيَضُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ , فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ لِي: وَإِنَّكَ لَتَأْكُلُ الضَّبُعَ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا أَكَلْتُهَا قَطُّ , وَإِنَّ نَاسًا مِنْ قَوْمِي لَيَأْكُلُونَهَا , قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ أَكْلَهَا لَا يَحِلُّ , قَالَ: فَقَال َ الشَّيْخُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ , أَلَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُه ُ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى , قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ " كُلِّ ذِي خِطْفَةٍ , وَعَنْ كُلِّ نُهْبَةٍ , وَعَنْ كُلِّ مُجَثَّمَةٍ , وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" , قَالَ: فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ: صَدَقَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسًیب سے گوہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا، میں نے ان سے کہا کہ آپ کی قوم تو اسے کھاتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ انہیں معلوم نہیں ہوگا، اس پر وہاں موجود ایک آدمی نے کہا کہ میں نے حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر اس جانور سے منع فرمایا ہے جو لوٹ مار سے حاصل ہو، جسے اچک لیا گیا ہو یا ہر وہ درندہ جو اپنے کچلی والے دانتوں سے شکار کرتا ہو، حضرت سعید بن مسیًب نے اس کی تصدیق فرمائی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27512]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن يزيد
الحكم: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن يزيد