بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُنَيْسَةَ بِنْتِ خُبَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 27439 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، خُبَيْبٍ ، عَمَّتِي
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ خُبَيْبٍ , قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّتِي , تَقُولُ: وَكَانَتْ حَجَّتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يُنَادِي بِلَيْلٍ , فَكُلُوا وَاشْرَبُوا , حَتَّى يُنَادِيَ بِلَالٌ , أَوْ إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ , فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ" , وَكَانَ يَصْعَدُ هَذَا , وَيَنْزِلُ هَذَا , فَنَتَعَلَّقُ بِهِ , فَنَقُولُ: كَمَا أَنْتَ حَتَّى نَتَسَحَّرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انیسہ جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھیں سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابن ام مکتوم رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک بلال اذان نہ دے دے تم کھاتے پیتے رہو۔ راوی کہتے ہیں کہ دراصل وہ نابینا آدمی تھے، دیکھ نہیں سکتے تھے اس لئے وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک لوگ نہ کہنے لگتے کہ اذان دیجئے، آپ نے تو صبح کر دی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27439]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27440 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، مَنْصُورٌ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ، خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُنَيْسَةَ بِنْتِ خُبَيْبٍ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ , عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَمَّتِهِ أُنَيْسَةَ بِنْتِ خُبَيْبٍ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَذَّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا , وَإِذَا أَذَّنَ بِلَالٌ , فَلَا تَأْكُلُوا وَلَا تَشْرَبُوا" , قَالَتْ: وَإِنْ كَانَتْ الْمَرْأَةُ لَيَبْقَى عَلَيْهَا مِنْ سُحُورِهَا , فَنَقُولُ لِبِلَالٍ: أَمْهِلْ حَتَّى أَفْرُغَ مِنْ سُحُورِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انیسہ جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھیں سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابن ام مکتوم رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک بلال اذان نہ دے دے تم کھاتے پیتے رہو۔ راوی کہتے ہیں کہ دراصل وہ نابینا آدمی تھے، دیکھ نہیں سکتے تھے اس لئے وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک لوگ نہ کہنے لگتے کہ اذان دیجئے، آپ نے تو صبح کر دی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27440]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27441 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَمَّتِهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَمَّتِهِ , قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ أَوْ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ , فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ بِلَالٌ أَوْ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ" , فَمَا كَانَ إِلَّا أَنْ يُؤَذِّنَ أَحَدُهُمَا وَيَصْعَدَ الْآخَرُ , فَنَأْخُذَهُ بِيَدِهِ , وَنَقُولَ: كَمَا أَنْتَ حَتَّى نَتَسَحَّرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انیسہ جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھیں سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابن ام مکتوم رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک بلال اذان نہ دے دے تم کھاتے پیتے رہو۔ راوی کہتے ہیں کہ دراصل وہ نابینا آدمی تھے، دیکھ نہیں سکتے تھے اس لئے وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک لوگ نہ کہنے لگتے کہ اذان دیجئے، آپ نے تو صبح کر دی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27441]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح