بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ أُمِّ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 9
حدیث نمبر: 27271 مسند احمد
بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، الزُّهْرِيِّ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّ كُلْثُومٍ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " لَيْسَ الْكَاذِبُ بِأَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ فِي إِصْلَاحِ مَا بَيْنَ النَّاسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جھوٹا نہیں ہوتا جو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے کوئی بات کہہ دیتا ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27271]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 27272 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ ، حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عُقْبَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أُمَّهُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عُقْبَةَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ , فَيَنْمِي خَيْرًا , أَوْ يَقُولُ خَيْرًا" . وَقَالَتْ: وَقَالَتْ: لَمْ أَسْمَعْهُ يُرَخِّصُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: " فِي الْحَرْبِ , وَالْإِصْلَاحِ بَيْنَ النَّاسِ , وَحَدِيثِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ، وَحَدِيثِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا" , وَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ اللَّاتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جھوٹا نہیں ہوتا جو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے کوئی بات کہہ دیتا ہے اور اچھی چیز کی نسبت کرتا ہے یا اچھی بات کہتا ہے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سوائے تین جگہوں کے جھوٹ بولنے کی کبھی رخصت نہیں دی، جنگ میں، لوگوں کے درمیان صلح کرانے میں، میاں بیوی کے ایک دوسرے کو خوش کرنے میں۔ یاد رہے کہ حضرت ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا ان مہاجر خواتین میں سے ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27272]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2605 دون قوله: قالت: ولم أسمعه يرخص فى شيء .. فالصواب أنها زيادة مدرجة من كلام الزهري
الحكم: حديث صحيح، م: 2605 دون قوله: قالت: ولم أسمعه يرخص فى شيء .. فالصواب أنها زيادة مدرجة من كلام الزهري
حدیث نمبر: 27273 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ , ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَيْسَ الْكَذَّابُ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ النَّاسِ , فَقَالَ خَيْرًا أَوْ نَمَى خَيْرًا" , وَقَالَ مَرَّةً:" وَنَمَى خَيْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جھوٹا نہیں ہوتا جو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے کوئی بات کہہ دیتا ہے۔ اور اچھی چیز کی نسبت کرتا ہے۔ یاد رہے کہ حضرت ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا ان مہاجر خواتین میں سے ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27273]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27274 مسند احمد
أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، الزُّهْرِيِّ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّهِ
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَمِّهِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سورۃ اخلاص ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27274]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد اختلف على الزهري فى هذا الإسناد
الحكم: حديث صحيح، وقد اختلف على الزهري فى هذا الإسناد
حدیث نمبر: 27275 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَبْدِ الْوَهَّابِ ، ابْنِ شِهَابٍ ، حُمَيْدِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ , عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ , عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ حُمَيْدِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ , قَالَتْ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْكَذِبِ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: " الرَّجُلِ يَقُولُ الْقَوْلَ يُرِيدُ بِهِ الْإِصْلَاحَ , وَالرَّجُلِ يَقُولُ الْقَوْلَ فِي الْحَرْبِ , وَالرَّجُلِ يُحَدِّثُ امْرَأَتَهُ , وَالْمَرْأَةِ تُحَدِّثُ زَوْجَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جھوٹا نہیں ہوتا جو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے کوئی بات کہہ دیتا ہے اور اچھی چیز کی نسبت کرتا ہے یا اچھی بات کہتا ہے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سوائے تین جگہوں کے جھوٹ بولنے کی کبھی رخصت نہیں دی، جنگ میں، لوگوں کے درمیان صلح کرانے میں، میاں بیوی کے ایک دوسرے کو خوش کرنے میں۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27275]
حکم دارالسلام
هذا حديث لا يصح رفعه للنبي صلى الله عليه و آله وسلم، وإنما هو مدرج من كلام الزهري، وقد وهم عبدالوهاب فى رفعه
الحكم: هذا حديث لا يصح رفعه للنبي ﷺ، وإنما هو مدرج من كلام الزهري، وقد وهم عبدالوهاب فى رفعه
حدیث نمبر: 27276 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، أُمِّهِ ، أُمِّ كُلْثُومٍ ، حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُسْلِمٌ ، أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ أُمِّهِ , عن أُمِّ كُلْثُومٍ , قال عبد الله: قَالَ أَبِي: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ فَذَكَرَهُ , وَقَالَ: عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ , قَالَتْ: لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ سَلَمَةَ , قَالَ لَهَا: " إِنِّي قَدْ أَهْدَيْتُ إِلَى النَّجَاشِيِّ حُلَّةً وَأَوَاقِيَّ مِنْ مِسْكٍ , وَلَا أَرَى النَّجَاشِيَّ إِلَّا قَدْ مَاتَ , وَلَا أَرَى إِلَّا هَدِيَّتِي مَرْدُودَةً عَلَيَّ , فَإِنْ رُدَّتْ عَلَيَّ , فَهِيَ لَكِ" , قَالَ: وَكَانَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرُدَّتْ عَلَيْهِ هَدِيَّتُهُ , فَأَعْطَى كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ أُوقِيَّةَ مِسْكٍ , وَأَعْطَى أُمَّ سَلَمَةَ بَقِيَّةَ الْمِسْكِ وَالْحُلَّةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام کلثوم بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا تو انہیں بتایا کہ میں نے نجاشی کے پاس ہدیہ کے طور پر ایک حلہ اور چند اوقیہ مشک بھیجی ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ نجاشی فوت ہو گیا ہے اور غالباً میرا بھیجا ہوا ہدیہ واپس آ جائے گا، اگر ایسا ہوا تو وہ تمہارا ہو گا، چنانچہ ایسا ہی ہوا جیسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا اور وہ ہدیہ واپس آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک اوقیہ مشک اپنی تمام ازواج مطہرات میں تقسیم کر دیا اور باقی ماندہ ساری مشک اور وہ جوڑا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27276]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف مسلم بن خالد، ووالدة موسي ابن عقبة لم نقف لها على ترجمة، وقد اضطرب مسلم بن خالد فى تعيينها
الحكم: إسناده ضعيف لضعف مسلم بن خالد، ووالدة موسي ابن عقبة لم نقف لها على ترجمة، وقد اضطرب مسلم بن خالد فى تعيينها
حدیث نمبر: 27277 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَيْسَ الْكَذَّابُ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ النَّاسِ , فَقَالَ خَيْرًا , أَوْ نَمَى خَيْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جھوٹا نہیں ہوتا جو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے کوئی بات کہہ دیتا ہے اور اچھی چیز کی نسبت کرتا ہے یا اچھی بات کہتا ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27277]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2605
الحكم: إسناده صحيح، م: 2605
حدیث نمبر: 27278 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْكَذِبِ فِي ثَلَاثٍ: " فِي الْحَرْبِ , وَفِي الْإِصْلَاحِ بَيْنَ النَّاسِ , وَقَوْلِ الرَّجُلِ لِامْرَأَتِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین جگہوں میں جھوٹ بولنے کی رخصت دی ہے، جنگ میں، لوگوں کے درمیان صلح کرانے میں، میاں بیوی کے ایک دوسرے کو خوش کرنے میں۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27278]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لعنعنة ابن جريج، وهو مدلس
الحكم: إسناده ضعيف لعنعنة ابن جريج، وهو مدلس
حدیث نمبر: 27279 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ ، قَالَ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ , قالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَيْسَ بِالْكَذَّابِ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ النَّاسِ , فَقَالَ خَيْرًا , أَوْ نَمَى خَيْرًا" , وَقَالَ مَرَّةً:" وَنَمَى خَيْرً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جھوٹا نہیں ہوتا جو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے کوئی بات کہہ دیتا ہے۔ (اور اچھی چیز کی نسبت کرتا ہے یا اچھی بات کہتا ہے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سوائے تین جگہوں کے جھوٹ بولنے کی کبھی رخصت نہیں دی، جنگ میں، لوگوں کے درمیان صلح کرانے میں، میاں بیوی کے ایک دوسرے کو خوش کرنے میں، یاد رہے کہ حضرت ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا ان مہاجر خواتین میں سے ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیعت کی تھی۔) [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27279]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح