بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 27247 مسند احمد
عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ذخیرہ اندوذی وہی شحص کرتا ہے جو گناہگار ہو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27247]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1605، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة أبن إسحاق، وهو مدلس، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1605، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة أبن إسحاق، وهو مدلس، لكنه توبع
حدیث نمبر: 27248 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَضْلَةَ الْقُرَشِيِّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَضْلَةَ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ذخیرہ اندوذی وہی شحص کرتا ہے جو گناہگار ہو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27248]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1605، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1605، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس، لكنه توبع
حدیث نمبر: 27249 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ ، مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ مَوْلَى مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ بْنِ نَضْلَةَ الْعَدَوِيِّ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنْتُ أَرْحَلُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَ: فَقَالَ لِي لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي:" يَا مَعْمَرُ، لَقَدْ وَجَدْتُ اللَّيْلَةَ فِي أَنْسَاعِي اضْطِرَابًا؟" , قَالَ: فَقُلْتُ: أَمَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَقَدْ شَدَدْتُهَا كَمَا كُنْتُ أَشُدُّهَا، وَلَكِنَّهُ أَرْخَاهَا مَنْ قَدْ كَانَ نَفَسَ عَلَيَّ لِمَكَانِي مِنْكَ، لِتَسْتَبْدِلَ بِي غَيْرِي، قَالَ: فَقَالَ:" أَمَا إِنِّي غَيْرُ فَاعِلٍ"، قَالَ: فَلَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ بِمِنًى، أَمَرَنِي أَنْ أَحْلِقَهُ، قَالَ: فَأَخَذْتُ الْمُوسَى، فَقُمْتُ عَلَى رَأْسِهِ، قَالَ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِي، وَقَالَ لِي:" يَا مَعْمَرُ، أَمْكَنَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَحْمَةِ أُذُنِهِ وَفِي يَدِكَ الْمُوسَى" , قَالَ: فَقُلْتُ: أَمَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيَّ وَمَنِّهِ، قَالَ: فَقَالَ:" أَجَلْ إِذًا أُقِرُّ لَكَ"، قَالَ: ثُمَّ حَلَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے سفر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری میں ہی تیار کرتا تھا، ایک رات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ معمر! آج رات میں نے اپنی سواری کی رسی ڈھیلی محسوس کی ہے، میں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کہ ساتھ بھیجا ہے! میں نے تو اسی طرح رسی کسی تھی جیسے میں عام طور پر کستا تھا، البتہ ہو سکتا ہے کہ اس شخص نے اسے ڈھیلا کر دیا ہو جو میری جگہ آپ کے قریب تھا تاکہ آپ میری جگہ کسی اور کو لے آئیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لیکن ایسا کرنے والا نہیں ہوں۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میدانِ منٰی میں قربانی کے جانور ذ بح کر چکے تو مجھے حکم دیا کہ میں ان کا حلق کروں میں استرا پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک کے قریب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری طرف دیکھ کر فرمایا: معمر! اللہ کے پیغمبر نے اپنے کان کی لو تمہارے ہاتھ میں دی ہے اور وہ تمہارے ہاتھ میں استرا ہے، میں عرض کیا: واللہ! یا رسول اللہ! یہ اللہ کا مجھ پر احسان ہے اور مہربانی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، میں تمہیں اس پر برقرار رکھتا ہوں۔ پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر کے بال مونڈے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27249]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال عبدالرحمن بن عقبة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال عبدالرحمن بن عقبة
حدیث نمبر: 27250 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو النَّضْرِ ، بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ , عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلَامًا لَهُ بِصَاعٍ مِنْ قَمْحٍ، فَقَالَ لَهُ: بِعْهُ , ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا، فَذَهَبَ الْغُلَامُ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ، فَلَمَّا جَاءَ مَعْمَرًا، أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ مَعْمَرٌ: أَفَعَلْتَ؟ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ، وَلَا تَأْخُذْ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ , فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ"، وَكَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرَ، قِيلَ: فَإِنَّهُ لَيْسَ مِثْلَهُ، قَالَ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے ایک غلام کو ایک صاع گیہوں دے کر کہا، اسے بیچ کر جو پیسے ملیں ان سے جَو خرید لاؤ، وہ غلام گیا اور ایک صاع اور اس سے کچھ زائد لے آیا اور حضرت معمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر اس کی اطلاع دی، حضرت معمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: کیا تم نے واقعی ایسا کیا ہے؟ واپس لے جاؤ اور اسے لوٹا دو اور صرف برابر برابر لین دین کرو، کیونکہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ طعام کو طعام کے بدلے برابر برابر بیچا جائے اور اس زمانے میں ہمارا طعام جَو تھا، کسی نے کہا کہ یہ اس کا مثل نہیں ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے اندیشہ ہے کہ یہ اس کے مشابہ ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27250]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1592، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1592، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 27251 مسند احمد
هَارُونُ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، أَبَا النَّضْرِ ، بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ , أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27251]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1592
الحكم: إسناده صحيح، م: 1592