حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، عُمَرَ بْنِ نَبْهَانَ ، أَبِي ثَعْلَبَةَ الْأَشْجَعِيِّ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَبْهَانَ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ: مَاتَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَدَانِ فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: " مَنْ مَاتَ لَهُ وَلَدَانِ فِي الْإِسْلَامِ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمَا"، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، لَقِيَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَقَالَ: أَنْتَ الَّذِي قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوَلَدَيْنِ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَالَ: لَئِنْ قَالَهُ لِي، أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا غُلِّقَتْ عَلَيْهِ حِمْصُ وَفِلَسْطِينُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! زمانہ اسلام میں میرے دو بچے فت ہو گئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مسلمان آدمی جس کے دو نابالغ بچے فوت ہو گئے ہوں، اللہ ان بچوں کے ماں باپ کو اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخلہ عطا فرمائے گا“، کچھ عرصے بعد مجھے حضرت ابوہریر رضی اللہ عنہ ہ ملے اور کہنے لگے کہ کیا آپ ہی وہ ہیں جن سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو بچوں کے متعلق کچھ فرمایا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، وہ کہنے لگے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بات مجھ سے فرمائی ہوتی تو میری نظروں میں حمص اور فلسطین کی چیزوں سے بھی بہتر ہوتی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27220]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عمر بن نبهان
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عمر بن نبهان