بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ سَلْمَى بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 27133 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، سَلِيطُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ سُلَيْمٍ ، أُمِّهِ ، سَلْمَى بِنْتِ قَيْسٍ
حدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلِيطُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ سَلْمَى بِنْتِ قَيْسٍ وَكَانَتْ إِحْدَى خَالَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّتْ مَعَهُ الْقِبْلَتَيْنِ، وَكَانَتْ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ، قَالَتْ: جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعْتُهُ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا شَرَطَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا نَسْرِقَ وَلَا نَزْنِيَ، وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا، وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَان نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا، وَلَا نَعْصِيَهُ فِي مَعْرُوفٍ، قَالَت: قَالَ: " وَلَا تَغْشُشْنَ أَزْوَاجَكُنَّ"، قَالَتْ: فَبَايَعْنَاهُ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا، فَقُلْتُ لِامْرَأَةٍ مِنْهُنَّ: ارْجِعِي فَاسْأَلِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِشُّ أَزْوَاجِنَا؟ قَالَتْ: فَسَأَلَتْهُ، فَقَالَ:" تَأْخُذُ مَالَهُ، فَتُحَابِي بِهِ غَيْرَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمی بنت قیس رضی اللہ عنہا جو کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک خالہ اور قبلتین کی طرف نماز پڑھنے والوں میں سے تھیں، سے مروی ہے کہ میں کچھ مسلمان خواتین کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوئیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ شرط لگائی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی، چوری نہیں کرو گی، بدرکای نہیں کرو گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی، کوئی بہتان اپنے ہاتھوں پیروں کے درمیان نہیں گھڑو گی اور کسی نیکی کے کام میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نافرمانی نہیں کرو گی اور اپنے شوہروں کو دھوکہ نہیں دو گی، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان شرائط پر بیعت کر لی، جب ہم واپس جانے لگے تو ان میں سے ایک عورت کہنے لگی کہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھو کہ شوہر کو دھوکہ دینے سے کیا مراد ہے؟ چنانچہ سوال کرنے پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کا مال لے کر غیر پر انصاف سے ہٹ کر خرچ کرنا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27133]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة سليط بن أيوب، وأمه لم نقف لها على ترجمة ، وقد اختلف فيه على ابن إسحاق
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة سليط بن أيوب، وأمه لم نقف لها على ترجمة ، وقد اختلف فيه على ابن إسحاق