يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، الْمَسْعُودِي ، مَعْبَدُ بْنُ خَالِد ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ ، قُتَيْلَةَ بِنْتِ صَيْفِيٍّ الْجُهَيْنِيَّةِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِي ، قاَلَ: حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِد ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ قُتَيْلَةَ بِنْتِ صَيْفِيٍّ الْجُهَيْنِيَّةِ، قَالَتْ: أَتَى حَبْرٌ مِنَ الْأَحْبَار إلي رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، فَقَال: يَا مُحَمَّدُ، نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ، لَوْلَا أَنَّكُمْ تُشْرِكُون، قَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ، وَمَا ذَاكَ؟" , قَالَ: تَقُولُونَ إِذَا حَلَفْتُمْ: وَالْكَعْبَةِ، قَالَت: فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّهُ قَدْ قَالَ: " فَمَنْ حَلَفَ فَلْيَحْلِفْ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ" , ثم قَالَ: يَا مُحَمَّدُ , نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ، لَوْلَا أَنَّكُمْ تَجْعَلُونَ لِلَّهِ نِدًّا، قَال:" سُبْحَانَ اللَّه، وَمَا ذَاكَ؟" , قَالَ: تَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ، قَالَ: فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّهُ قَدْ قَال، فَمَنْ قَال: مَا شَاءَ اللَّهُ، فَلْيَفْصِلْ بَيْنَهُمَا: ثُمَّ شِئْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت قتیلہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اہل کتاب کا ایک بڑا عالم بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے محمد! تم لوگ بہترین قوم ہوتے اگر تم شرک نہ کرتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! وہ کیسے؟“ اس نے کہا کہ آپ لوگ قسم کھاتے ہوئے کعبہ کی قسم کھاتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ دیر سکوت کے بعد فرمایا: ”یہ صحیح کہہ رہا ہے، اس لئے آئندہ جو شخص قسم کھائے وہ رب کعبہ کی قسم کھائے“، پھر اس نے کہا کہ اے محمد! اگر تم لوگ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے، تو تم بہترین قوم ہوتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! وہ کیسے؟“ اس نے کہا کہ آپ لوگ کہتے ہیں، جو اللہ نے چاہا اور آپ نے چاہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ دیر سکوت کے بعد فرمایا: ”یہ صحیح کہہ رہا ہے، اس لئے جو شخص یہ کہے اسے چاہیے کہ ان دونوں جملوں کے درمیان فصل پیدا کیا کرے۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27093]
الحكم: إسناده صحيح