حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، رَافِعُ بْنُ سَلَمَةَ الْأَشْجَعِيُ ، حَشْرَجُ بْنُ زِيَاد ، جَدَّتِهِ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ سَلَمَةَ الْأَشْجَعِيُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَشْرَجُ بْنُ زِيَاد ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَر، وَأَنَا سَادِسَةُ سِتِّ نِسْوَة، قَالَتْ: فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَعَهُ نِسَاءً، قَالَت: فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا فَدَعَانا، قَالَتْ: فَرَأَيْنَا فِي وَجْهِهِ الْغَضَبَ، فَقَالَ: " مَا أَخْرَجَكُنَّ؟ وَبِأَمْرِ مَنْ خَرَجْتُنّ؟" , قُلْنَا: خَرَجْنَا مَعَكَ نُنَاوِلُ السِّهَام، َوَنَسْقِي السَّوِيق، وَمَعَنَا دَوَاءٌ لِلْجُرْحى , وَنَغْزِلُ الشَّعْرَ، فَنُعِينُ بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّه، قَالَ:" قُمْنَ فَانْصَرِفْن"، قَالَت: فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَر، أَخْرَجَ لَنَا منها سِهَامًا كَسِهَامِ الرِّجَالِ، فَقُلْتُ لَهَا: يَا جَدَّتِي، وَمَا الَّذِي أَخْرَجَ لَكُن؟ قَالَت: تَمْرٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حشرج بن زیاد اپنی دادی سے نقل کرتے ہیں کہ میں غزوہ خیبر کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ نکلی، میں اس وقت چھ میں سے چھٹی عورت تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معلوم ہوا کہ ان کے ہمراہ خواتین بھی ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے پاس پیغام بھیجا کہ تم کیوں نکلی ہو اور کس کی اجازت سے نکلی ہو؟ ہم نے جواب دیا کہ ہم لوگ اس لئے نکلے ہیں تاکہ ہمیں بھی حصہ ملے، ہم لوگوں کو ستو گھول کر پلا سکیں، ہمارے پاس مریضوں کے علاج کا سامان بھی ہے، ہم بالوں کو کاٹ لیں گی اور اللہ کے راستہ میں اس کے ذریعے ان کی مدد کریں گی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ واپس چلی جاؤ“، جب اللہ نے خیبر کو فتح کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں بھی مردوں کی طرح حصہ مرحمت فرمایا، میں نے اپنی دادی سے پوچھا کہ دادی جان! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو کیا حصہ دیا؟ انہوں نے جواب دیا کھجوریں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27092]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حشرج بن زياد
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حشرج بن زياد