بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 27056 مسند احمد
أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ الزُّبَيْدِيُّ ، مُوسَى بْنُ عُقبةَ ، أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ الزُّبَيْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقبةَ ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ , أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام خالد رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27056]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1376
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1376
حدیث نمبر: 27057 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِكِسْوَةٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ صَغِيرَةٌ، فَقَالَ: " مَنْ تَرَوْنَ أَحَقَّ بِهَذِهِ؟" فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ:" ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ" فَأُتِيَ بِهَا، فَأَلْبَسَهَا إِيَّاهَا، ثُمَّ قَالَ لَهَا مَرَّتَيْنِ:" أَبْلِي وَأَخْلِقِي" , وَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى عَلَمٍ فِي الْخَمِيصَةِ أَحْمَرَ، أَوْ أَصْفَرَ، وَيَقُولُ:" سَنَاهْ , سَنَاهْ , يَا أُمَّ خَالِدٍ" , و" َسَنَاهْ" فِي كَلَامِ الْحَبَشِ: الْحَسَنُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام خالد رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کہیں سے کچھ کپڑے آئے، جن میں ایک چھوٹا ریشمی کپڑا بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ تمہارے خیال میں اس کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ لوگ خاموش رہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ام خالد کو میرے پاس بلا کر لاؤ، انہیں لایا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ کپڑے انہیں پہنا دیئے اور دو مرتبہ ان سے فرمایا: پہننا اور پرانا کرنا نصیب ہو، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کپڑے پر سرخ یا زرد رنگ کے نشانات کو دیکھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: اے ام خالد! کتنا اچھا لگ رہا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27057]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3874
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3874
حدیث نمبر: 27058 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، أُمَّ خَالِدٍ بِنْتَ خَالِدٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , سَمِعَ أُمَّ خَالِدٍ بِنْتَ خَالِدٍ , قَالَ: وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَهَا , تقول: سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام خالد رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27058]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6364
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6364