بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 27032 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أُمِّ حَرَامٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ , أَنَّهَا قَالَتْ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِلًا فِي بَيْتِي، إِذْ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ، مَا يُضْحِكُكَ؟ فَقَالَ: " عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي، يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ، كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ"، فَقُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ"، ثُمَّ نَامَ أَيْضًا، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي، مَا يُضْحِكُكَ؟ قَالَ:" عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي، يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ" , فَقُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فقَالَ:" أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ" , فَغَزَتْ مَعَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَكَانَ زَوْجَهَا، فَوَقَصَتْهَا بَغْلَةٌ لَهَا شَهْبَاءُ، فَوَقَعَتْ، فَمَاتَتْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے گھر میں قیلولہ فرما رہے تھے کہ اچانک مسکراتے ہوئے بیدار ہو گئے، میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کس بناء پر مسکرا رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے میری امت کے کچھ لوگوں کو پیش کیا گیا، جو اس سطح سمندر پر اس طرح سوار چلے آ رہے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر براجمان ہوتے ہیں، میں نے عرض کیا کہ اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! انہیں بھی ان میں شامل فرما دے۔ تھوڑی ہی دیر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دوبارہ آنکھ لگ گئی اور اس مرتبہ بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے وہی سوال دہرایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس مرتبہ بھی مزید کچھ لوگوں کو اس طرح پیش کئے جانے کا تذکرہ فرمایا: میں نے عرض کیا کہ اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے ان میں بھی شامل کر دے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم پہلے گروہ میں شامل ہو، چنانچہ وہ اپنے شوہر حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سمندری جہاد میں شریک ہوئیں اور اپنے ایک سرخ و سفید خچر سے گر کر ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گئیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27032]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2799، م: 1912
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2799، م: 1912
حدیث نمبر: 27033 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أُمِّ حَرَامٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27033]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2799، م: 1912
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2799، م: 1912