بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 27006 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، أُمَيْمَةَ بِنْتَ رُقَيْقَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ أُمَيْمَةَ بِنْتَ رُقَيْقَةَ ، تَقُولُ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ، فَلَقَّنَنَا:" فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ" , قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ مِنَّا مِنْ أَنْفُسِنَا , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْنَا , قَالَ: " إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ، إِنَّمَا قَوْلِي لِامْرَأَةٍ، قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت امیمہ بنت رقیقہ سے مروی ہے کہ میں کچھ مسلمان خواتین کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں لقمہ دیا کہ اور حسب استطاعت اور بقدر طاقت ایسا ہی کریں گی، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہم پر ہم سے زیادہ رحم والے ہیں، یا رسول اللہ! ہمیں بیعت کر لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (جاؤ میں نے تم سب کو بیعت کر لیا) میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، سو عورتوں سے بھی میری وہی بات ہے جو ایک عورت سے ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27006]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27007 مسند احمد
يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ التَّيْمِيَّةِ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ التَّيْمِيَّةِ ، قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لِنُبَايِعَهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْنَا لِنُبَايِعَكَ عَلَى أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا نَسْرِقَ، وَلَا نَزْنِيَ، وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا، وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا، وَلَا نَعْصِيَكَ فِي مَعْرُوفٍ , قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَعْتُنَّ" , قَالَتْ: قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا، بَايِعْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" اذْهَبْنَ، فَقَدْ بَايَعْتُكُنَّ، إِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ، كَقَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ" , قَالَتْ: وَلَمْ يُصَافِحْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَّا امْرَأَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں کچھ مسلمان خواتین کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوئی اور ہم سب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ کے پاس ان شرائط پر بیعت کرنے کے لئے آئے ہیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، بدکاری نہیں کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، کوئی بہتان اپنے ہاتھوں، پیروں کے درمیان نہیں گھڑیں گی اور کسی نیکی کے کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں لقمہ دیا کہ اور حسب استطاعت اور بقدر طاقت ایسا ہی کریں گی، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہم پر ہم سے زیادہ رحم والے ہیں، یا رسول اللہ! ہمیں بیعت کر لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (جاؤ میں نے تم سب کو بیعت کر لیا) میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، سو عورتوں سے بھی میری وہی بات ہے جو ایک عورت سے ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم میں سے کسی عورت سے مصافحہ نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27007]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 27008 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ , أَنَّها قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ نُبَايِعُهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا نَسْرِقَ، وَلَا نَزْنِيَ، وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا، وَلَا نَعْصِيَكَ فِي مَعْرُوفٍ , قَالَ: قَالَ: " فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَعْتُنَّ" , قَالَتْ: فَقُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنَّا بِأَنْفُسِنَا، هَلُمَّ نُبَايِعُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ، إِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ، كَقَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت امیمہ بنت رقیقہ سے مروی ہے کہ میں کچھ مسلمان خواتین کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوئی اور ہم سب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ کے پاس ان شرائط پر بیعت کرنے کے لئے آئے ہیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، بدکاری نہیں کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، کوئی بہتان اپنے ہاتھوں، پیروں کے درمیان نہیں گھڑیں گی اور کسی نیکی کے کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں لقمہ دیا کہ اور حسب استطاعت اور بقدر طاقت ایسا ہی کریں گی، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہم پر ہم سے زیادہ رحم والے ہیں، یا رسول اللہ! ہمیں بیعت کر لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (جاؤ میں نے تم سب کو بیعت کر لیا) میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، سو عورتوں سے بھی میری وہی بات ہے جو ایک عورت سے ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم میں سے کسی عورت سے مصافحہ نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27008]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27009 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ ، قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسَاءٍ نُبَايِعُهُ، فَأَخَذَ عَلَيْنَا مَا فِي الْقُرْآنِ أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12 الْآيَةَ، قَالَ: " فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَعْتُنَّ" , قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا , قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تُصَافِحُنَا؟ قَالَ:" إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ، إِنَّمَا قَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ، كَقَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں کچھ مسلمان خواتین کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوئی اور ہم سب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ کے پاس ان شرائط پر بیعت کرنے کے لئے آئے ہیں جو قرآن میں ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں لقمہ دیا کہ اور حسب استطاعت اور بقدر طاقت ایسا ہی کریں گی، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہم پر ہم سے زیادہ رحم والے ہیں، یا رسول اللہ! ہمیں بیعت کر لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (جاؤ میں نے تم سب کو بیعت کر لیا) میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، سو عورتوں سے بھی میری وہی بات ہے جو ایک عورت سے ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم میں سے کسی عورت سے مصافحہ نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27009]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27010 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أُمَيْمَةَ بِنْتَ رُقَيْقَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَيْمَةَ بِنْتَ رُقَيْقَةَ تُحَدِّثُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَسْتُ أُصَافِحُ النِّسَاءَ، إِنَّمَا قَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ، كَقَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا سو عورتوں سے بھی میری وہی بات ہے جو ایک عورت سے ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27010]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح