بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أُخْتِ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 9
حدیث نمبر: 26996 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ , قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي لَمْ يَطْعَمْ، فَبَالَ عَلَيْهِ، " فَدَعَا بِمَاءٍ، فَرَشَّهُ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام قیس بنت محصن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بچے کو لے کر حاضر ہوئی جس نے ابھی کھانا پینا شروع نہ کیا تھا اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پیشاب کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی منگوا کر اس جگہ پر چھڑک لیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26996]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 223، م: 287
الحكم: إسناده صحيح، خ: 223، م: 287
حدیث نمبر: 26997 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أُخْتِ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أُخْتِ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ , قَالَتْ: دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْكُلْ الطَّعَامَ، فَبَالَ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ، وَدَخَلْتُ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَنْهُ وَقَالَ مَرَّةً عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ: " عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ؟ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُسْطِ وَقَالَ مَرَّةً سُفْيَانُ: الْعُودِ الْهِنْدِيِّ فَإِنَّ بِهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ، يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام قیس بنت محصن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بچے کو لے کر حاضر ہوئی جس نے ابھی کھاناپینا شروع نہ کیا تھا اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پیشاب کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی منگوا کر اس جگہ پر چھڑک لیا، پھر جب میں اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوئی تو میں نے اس کے گلے اٹھائے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اس طرح گلے اٹھا کر اپنے بچوں کو گلا دبا کر تکلیف کیوں دیتی ہو؟ قسط ہندی استعمال کیا کرو کہ اس میں سات بیماریوں کی شفاء رکھی گئی ہے، جن میں سے ایک بیماری ذات الجنب بھی ہے، گلے ورم آلود ہونے کی صورت میں قسط ہندی کو ناک میں ٹپکایا جائے اور ذات الجنب کی صورت میں اسے منہ کے کنارے سے ٹپکایا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26997]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5692، م: 287
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5692، م: 287
حدیث نمبر: 26998 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، ثَابِتٌ أَبُو الْمِقْدَامِ ، عَدِيُّ بْنُ دِينَارٍ ، أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَابِتٌ أَبُو الْمِقْدَامِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ , قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثَّوْبِ يُصِيبُهُ دَمُ الْحَيْضِ؟ قَالَ: " حُكِّيهِ بِضِلَعٍ، وَاغْسِلِيهِ بِالْمَاءِ وَالنَّدِّ وَسِدْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام قیس سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کپڑے کے متعلق دریافت کیا جسے دم حیض لگ جائے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے پسلی کی ہڈی سے کھرچ دو اور پانی اور بیری کے ساتھ دھولو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26998]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26999 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، وهَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْحَسَنِ ، أُمِّ قَيْسٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , وهَاشِمٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ , أَنَّها قَالَتْ: تُوُفِّيَ ابْنِي، فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ لِلَّذِي يَغْسِلُهُ: لَا تَغْسِلْ ابْنِي بِالْمَاءِ الْبَارِدِ، فَتَقْتُلَهُ، فَانْطَلَقَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهَا، فَتَبَسَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " مَا قَالَتْ؟ طَالَ عُمْرُهَا" , قَالَ: فَلَا أَعْلَمُ امْرَأَةً عُمِّرَتْ مَا عُمِّرَتْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام قیس سے مروی ہے کہ میرا ایک بیٹا فوت ہوگیا، جس کی وجہ سے میں بہت بےقرار تھی میں نے بیخبر ی کے عالم میں اسے غسل دینے والے سے کہہ دیا کہ میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل نہ دو ورنہ یہ مرجائے گا، حضرت عکاشہ (جوان کے بھائی تھے) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کی بات سنائی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا جس نے یہ جملہ کہا ہے اس کی عمر لمبی ہو، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے زیادہ عمر رسیدہ عورت کوئی نہیں دیکھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26999]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسين
الحكم: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 27000 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أُمِّْ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أُمِّْ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةِ أُخْتِ عُكَّاشَةَ , قَالَتْ: جِئْتُ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَنْهُ، أَخَافُ أَنْ يَكُونَ بِهِ الْعُذْرَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذِهِ الْعَلَائِقِ؟ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، قَالَ يَعْنِي الْكُسْتَ فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ" ثُمَّ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيَّهَا، فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ , فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ، وَلَمْ يَكُنْ الصَّبِيُّ بَلَغَ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ , قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَمَضَتْ السُّنَّةُ بِأَنْ يُرَشَّ بَوْلُ الصَّبِيِّ، وَيُغْسَلَ بَوْلُ الْجَارِيَةِ , قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَيُسْتَسْعَطُ لِلْعُذْرَةِ، وَيُلَدُّ لِذَاتِ الْجَنْبِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام قیس بنت محصن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بچے کو لے کر حاضر ہوئی جس نے ابھی کھاناپینا شروع نہ کیا تھا اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پیشاب کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی منگوا کر اس جگہ پر چھڑک لیا، پھر جب میں اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوئی تو میں نے اس کے گلے اٹھائے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اس طرح گلے اٹھا کر اپنے بچوں کو گلا دبا کر تکلیف کیوں دیتی ہو؟ قسط ہندی استعمال کیا کرو کہ اس میں سات بیماریوں کی شفاء رکھی گئی ہے، جن میں سے ایک بیماری ذات الجنب بھی ہے، گلے ورم آلود ہونے کی صورت میں قسط ہندی کو ناک میں ٹپکایا جائے اور ذات الجنب کی صورت میں اسے منہ کے کنارے سے ٹپکایا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27000]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5692، م: 287
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5692، م: 287
حدیث نمبر: 27001 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلُ ، ثَابِتٍ أَبِي الْمِقْدَامِ ، عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ ، أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلُ ، عَنْ ثَابِتٍ أَبِي الْمِقْدَامِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ , قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَ: " حُكِّيهِ وَلَوْ بِضِلَعٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کپڑے کے متعلق دریافت کیا جسے دم حیض لگ جائے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے پسلی کی ہڈی سے کھرچ دو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27001]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27002 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، ثَابِتٍ ، عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ ، أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ , قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَ: " اغْسِلِيهِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَحُكِّيهِ بِضِلَعٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کپڑے کے متعلق دریافت کیا جسے دم حیض لگ جائے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے پسلی کی ہڈی سے کھرچ دو اور پانی اور بیری کے ساتھ دھو لو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27002]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27003 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ إِحْدَى بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّائِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: " عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بچے کو لے کر حاضر ہوئی جس نے ابھی کھانا پینا شروع نہ کیا تھا . . . . پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27003]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5692، م: 287
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5692، م: 287
حدیث نمبر: 27004 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيُّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أُمِّْ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَقَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أُمِّْ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ , أَنَّهَا جَاءَتْ بِابْنٍ لَهَا وَقَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذِهِ الْعُلُقِ؟ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ" , ثُمَّ أَخَذَ الصَّبِيَّ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: مَضَتْ السُّنَّةُ بِذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بچے کو لے کر حاضر ہوئی جس نے ابھی کھانا پینا شروع نہ کیا تھا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پیشاب کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی منگوا کر اس جگہ پر چھڑک لیا، پھر جب میں اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوئی تو میں نے اس کے گلے اٹھائے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح گلے اٹھا کر اپنے بچوں کو گلا دبا کر تکلیف کیوں دیتی ہو؟ قسط ہندی استعمال کیا کرو کہ اس میں سات بیماریوں کی شفاء رکھی گئی ہے، جن میں سے ایک بیماری ذات الجنب بھی ہے، گلے ورم آلود ہونے کی صورت میں قسط ہندی کو ناک میں ٹپکایا جائے اور ذات الجنب کی صورت میں اسے منہ کے کنارے سے ٹپکایا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27004]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5692، م: 287
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5692، م: 287