بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ امْرَأَةِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 23932 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أُمِّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُمِّهِ وَكَانَتْ قَدْ صَلَّتْ الْقِبْلَتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ يُنْتَبَذَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا، وَقَالَ:" انْتَبِذْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهَا وَحْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معبد بن کعب اپنی والدہ سے " جنہوں نے دو قبلوں کی طرف رخ کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رکھی تھی " نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھجور اور کشمش ملا کر نبیذ بنانے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بنایا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23932]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23933 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبَاحٌ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أُمِّهِ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُمِّهِ : أَنَّ أُمَّ مُبَشِّرٍ دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَقَالَتْ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَتَّهِمُ بِنَفْسِكَ؟ فَإِنِّي لَا أَتَّهِمُ إِلَّا الطَّعَامَ الَّذِي أَكَلَ مَعَكَ بِخَيْبَرَ، وَكَانَ ابْنُهَا مَاتَ قَبْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَأَنَا لَا أَتَّهِمُ غَيْرَهُ، هَذَا أَوَانُ قَطْعِ أَبْهَرِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن کعب اپنی والدہ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرض الوفات میں ام مبشر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ! آپ اپنے حوالے سے کسے متہم قرار دیتے ہیں؟ میں تو اسی کھانے کو متہم قرار دیتی ہوں جو خیبر میں آپ نے اور آپ کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہ نے تناول فرمایا تھا دراصل ان کا بیٹا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پہلے فوت ہوگیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں بھی اس کے علاوہ کسی اور چیز کو متہم قرار نہیں دیتا اس وقت ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میری رگیں کٹ رہی ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23933]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، وقد اختلف فيه على الزهري
الحكم: رجاله ثقات، وقد اختلف فيه على الزهري