أَبُو الْمُغِيرَةِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو زِيَادة عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الْكِنْدِيُّ ، بِلَالٍ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنِي أَبُو زِيَادة عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الْكِنْدِيُّ ، عَنْ بِلَالٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْذِنُهُ بِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَشَغَلَتْ عَائِشَةُ بِلَالًا بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى فَضَحَهُ الصُّبْحُ، وَأَصْبَحَ جِدًّا، قَالَ: فَقَامَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ وَتَابَعَ بَيْنَ أَذَانِهِ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ شَغَلَتْهُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى أَصْبَحَ جِدًّا، ثُمَّ إِنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ، فَقَالَ: " إِنِّي رَكَعْتُ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ قَدْ أَصْبَحْتَ جِدًّا، قَالَ:" لَوْ أَصْبَحْتُ أَكْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ، فَرَكَعْتُهُمَا وَأَحْسَنْتُهُمَا وَأَجْمَلْتُهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز فجر کی اطلاع دینے کے لئے آئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں کچھ پوچھنے میں الجھا دیا حتیٰ کہ روشنی ہونے لگی اور خوب روشنی پھیل گئی حضرت بلال رضی اللہ عنہ اٹھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دینے گئے اور مسلسل مطلع کرتے رہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف نہ لائے تھوڑی دیر بعد خود ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان سے کچھ پوچھنے لگی تھیں جس کی وجہ سے صبح ہونے لگی تھی پھر آپ نے بھی باہر تشریف لانے میں تاخیر فرمائی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں فجر کی سنتیں پڑھ رہا تھا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس وقت تو صبح خوب روشن ہوگئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر اس سے بھی زیادہ روشنی پھیل جاتی تب بھی میں انہیں خوب سنوار کر اور خوبصورت کر کے ضرور پڑھتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23910]
حکم دارالسلام
إسناده منقطع بين عبيدالله بن زياد و بلال بن رباح، وما وقع فى هذه الرواية من التصريح بالسماع بينهما ، فهو وهم من أبى المغيرة أو أنه كان يضطرب فيه
الحكم: إسناده منقطع بين عبيدالله بن زياد و بلال بن رباح، وما وقع فى هذه الرواية من التصريح بالسماع بينهما ، فهو وهم من أبى المغيرة أو أنه كان يضطرب فيه