حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، بُكَيْرُ بْنُ الْأَشَجِّ ، يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ الْأَشَجِّ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَحْنُ بِخَيْرٍ أَمْ مَنْ بَعْدَنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَنْفَقَ أَحَدُهُمْ أُحُدًا ذَهَبًا، مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِكُمْ وَلَا نَصِيفَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یوسف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہم لوگ زیادہ بہتر ہیں یا جو ہمارے بعد آئیں گے وہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر بعد والوں میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کر دے تو تمہارے ایک مد یا اس کے نصف کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23835]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة