بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 23755 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ أَبَوَيْهِ اخْتَصَمَا فِيهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَحَدُهُمَا مُسْلِمٌ وَالْآخَرُ كَافِرٌ، فَخَيَّرَهُ فَتَوَجَّهَ إِلَى الْكَافِرِ مِنْهُمَا، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اهْدِهِ" فَتَوَجَّهَ إِلَى الْمُسْلِمِ، فَقَضَى لَهُ بِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والدین ان کے متعلق اپنا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے میرے والدین میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا کافر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کافر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اے اللہ! اسے ہدایت عطا فرما اور مسلمان کی طرف متوجہ ہو کر میرے متعلق فیصلہ اس کے حق میں کردیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23755]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد وهم عثمان البتي، وقد خولف، وعبد الحميد بن سلمة وأبوه و جده لا يعرفون
الحكم: حديث صحيح، وقد وهم عثمان البتي، وقد خولف، وعبد الحميد بن سلمة وأبوه و جده لا يعرفون
حدیث نمبر: 23756 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عُثْمَانُ أَبُو عَمْرٍو الْبَتِّيِّ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ ، جَدَّهُ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ أَبُو عَمْرٍو الْبَتِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ ، أَنَّ جَدَّهُ أَسْلَمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ تُسْلِمْ جَدَّتُهُ، وَلَهُ مِنْهَا ابْنٌ، فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ شِئْتُمَا خَيَّرْتُمَا الْغُلَامَ" قَالَ: وَأَجْلَسَ الْأَبَ فِي نَاحِيَةٍ، وَالْأُمَّ نَاحِيَةً، فَخَيَّرَهُ فَانْطَلَقَ نَحْوَ أُمِّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ اهْدِهِ"، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى أَبِيهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالحمید بن سلمہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا دور نبوت ہی میں مسلمان ہوگئے تھے لیکن ان کی دادی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا دادا کا دادی سے ایک بیٹا تھا وہ دونوں اس کا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اگر مناسب سمجھو تو اپنے بیٹے کو اختیار دے دو (وہ جس کے پاس جانا چاہے چلاجائے) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کونے میں باپ کو بٹھایا اور دوسرے کونے میں ماں کو اور بچے کو اختیار دے دیا وہ بچہ ماں کی طرف چلنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! اس بچے کو ہدایت عطا فرما چناچہ وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ آیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23756]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، راجع ما قبله
الحكم: حديث صحيح، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 23757 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَبِي ، رَافِعِ بْنِ سِنَانٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي رَافِعِ بْنِ سِنَانٍ ، أَنَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتْ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ، فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: ابْنَتِي، وَهِيَ فَطِيمٌ أَوْ شَبَهُهُ، وَقَالَ رَافِعٌ: ابْنَتِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْعُدْ نَاحِيَةً" وَقَالَ لَهَا:" اقْعُدِي نَاحِيَةً" فَأَقْعَدَ الصَّبِيَّةَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ قَالَ:" ادْعُوَاهَا" فَمَالَتْ إِلَى أُمِّهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ اهْدِهَا" فَمَالَتْ إِلَى أَبِيهَا، فَأَخَذَهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالحمید بن سلمہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا دور نبوت ہی میں مسلمان ہوگئے تھے لیکن ان کی دادی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا دادا کا دادی سے ایک بیٹا تھا وہ دونوں اس کا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اگر مناسب سمجھو تو اپنے بیٹے کو اختیار دے دو (وہ جس کے پاس جانا چاہے چلاجائے) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کونے میں باپ کو بٹھایا اور دوسرے کونے میں ماں کو اور بچے کو اختیار دے دیا وہ بچہ ماں کی طرف چلنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! اس بچے کو ہدایت عطا فرما چناچہ وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ آیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23757]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح إن كان جعفر بن عبدالله والد عبدالحميد سمع من جد أبيه
الحكم: إسناده صحيح إن كان جعفر بن عبدالله والد عبدالحميد سمع من جد أبيه
حدیث نمبر: 23758 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عُثْمَانُ الْبَتِّيُّ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا عُثْمَانُ الْبَتِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ، وَعَنْ فَرْشَةِ السَّبُعِ، وَأَنْ يُوطِنَ الرَّجُلُ مَقَامَهُ فِي الصَّلَاةِ كَمَا يُوطِنُ الْبَعِيرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز میں کوے کی طرح ٹھونگیں مارنے سے درندوں کی طرح اپنے بازو سجدے میں بچھانے سے اور نماز کے لئے ایک ہی جگہ متعین کرلینے سے منع فرمایا ہے جیسے اونٹ اپنی جگہ متعین کرلیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23758]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وقد وهم عثمان فى تسمية والد عبد الحميد، والصواب أنه عبدالحميد بن جعفر بن عبدالله، و والد عبدالحميد لم يدرك رسول الله، وتميم بن محمود لين الحديث
الحكم: إسناده ضعيف، وقد وهم عثمان فى تسمية والد عبد الحميد، والصواب أنه عبدالحميد بن جعفر بن عبدالله، و والد عبدالحميد لم يدرك رسول الله، وتميم بن محمود لين الحديث
حدیث نمبر: 23759 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ جَدَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتْ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ، فَجَاءَ بِابْنٍ لَهُ صَغِيرٍ لَمْ يَبْلُغْ، قَالَ: فَأَجْلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَبَ هَاهُنَا، وَالْأُمَّ هَاهُنَا، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ اهْدِهِ" فَذَهَبَ إِلَى أَبِيهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالحمید بن سلمہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا دور نبوت ہی میں مسلمان ہوگئے تھے لیکن ان کی دادی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا دادا کا دادی سے ایک بیٹا تھا وہ دونوں اس کا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اگر مناسب سمجھو تو اپنے بیٹے کو اختیار دے دو (وہ جس کے پاس جانا چاہے چلاجائے) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کونے میں باپ کو بٹھایا اور دوسرے کونے میں ماں کو اور بچے کو اختیار دے دیا وہ بچہ ماں کی طرف چلنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! اس بچے کو ہدایت عطا فرما چناچہ وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ آیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23759]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد وهم عثمان البتي، وقد خولف، وعبد الحميد بن سلمة وأبوه و جده لا يعرفون
الحكم: حديث صحيح، وقد وهم عثمان البتي، وقد خولف، وعبد الحميد بن سلمة وأبوه و جده لا يعرفون