بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 23744 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَبَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، قَالَ بَهْزٌ: قَالَ: أخبرنا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَعْمَلَ النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ يَعْنِي: النُّعْمَانَ: وَلَكِنِّي شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ " إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ، أَخَّرَ الْقِتَالَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ، وَيَنْزِلَ النَّصْرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کو عامل مقرر کیا۔۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ غزوات میں شرکت کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر دن کے اول حصے میں قتال نہ کرتے تو اسے مؤخر کردیتے یہاں تک کہ زوال آفتاب ہوجاتا ہوائیں چلنے لگتیں اور نصرت الہٰیہ نازل ہوجاتی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23744]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3159، 3160
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3159، 3160
حدیث نمبر: 23745 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ ، النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَبَّ رَجُلٌ رَجُلًا عِنْدَهُ، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ الْمَسْبُوبُ يَقُولُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا إِنَّ مَلَكًا بَيْنَكُمَا يَذُبُّ عَنْكَ كُلَّمَا يَشْتُمُكَ هَذَا، قَالَ لَهُ: بَلْ أَنْتَ وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهِ، وَإِذَا قَالَ لَهُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ، قَالَ: لَا بَلْ لَكَ أَنْتَ، أنت أَحَقُّ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں ایک آدمی نے دوسرے کے ساتھ تلخ کلامی کی وہ دوسرا آدمی " علیک السلام " ہی کہتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم دونوں کے درمیان ایک فرشتہ موجود ہے یہ شخص جب بھی تمہیں برا بھلا کہتا ہے تو وہ تمہارا دفاع کرتا ہے اور اسے جواب دیتا ہے کہ تم ہی ایسے ہو اور تم ہی اس کے زیادہ حقدار ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23745]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، أبو خالد الوالبي روايته عن النعمان بن مقرن مرسلة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، أبو خالد الوالبي روايته عن النعمان بن مقرن مرسلة
حدیث نمبر: 23746 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، حُصَيْنٌ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْبَعِ مِائَةٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَمْرِهِ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَنَا طَعَامٌ نَتَزَوَّدُهُ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: " زَوِّدْهُمْ"، فَقَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا فَاضِلَةٌ مِنْ تَمْرٍ، وَمَا أُرَاهَا تُغْنِي عَنْهُمْ شَيْئًا، فَقَالَ:" انْطَلِقْ فَزَوِّدْهُمْ"، فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَى عُلِّيَّةٍ لَهُ، فَإِذَا فِيهَا تَمْرٌ مِثْلُ الْبَكْرِ الْأَوْرَقِ، فَقَالَ: خُذُوا، فَأَخَذَ الْقَوْمُ حَاجَتَهُمْ، قَالَ: وَكُنْتُ أَنَا فِي آخِرِ الْقَوْمِ، قَالَ: فَالْتَفَتُّ وَمَا أَفْقِدُ مَوْضِعَ تَمْرَةٍ، وَقَدْ احْتَمَلَ مِنْهُ أَرْبَعُ مِائَةِ رَجُلٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں مزینہ کے ہم چار سو افراد حاضر ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں جو احکام دینے تھے سو دے دیئے پھر کچھ لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ! ہمارے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں ہے جو ہم زاد راہ کے طور پر استعمال کرسکیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ انہیں زاد راہ دے دو انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس تو بچی کچھی تھوڑی سی کھجوریں ہیں اور میرا خیال نہیں ہے کہ وہ انہیں کچھ بھی کفایت کرسکیں گی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم جا کر انہیں وہی دے دو چناچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہمیں لے کر اپنے ایک بالا خانے کی طرف چل پڑے جہاں خاکستری اونٹ کی طرح کچھ کھجوریں پڑی ہوئی تھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اٹھا لو چناچہ سب لوگ اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں اٹھانے لگے میں سب سے آخر میں تھا میں نے دیکھا کہ اس میں سے ایک کھجور کی جگہ بھی خالی نہیں ہوئی تھی حالانکہ وہاں سے چار سو آدمیوں نے کھجوریں اٹھائی تھیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23746]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، سالم ابن أبى الجعد لم يدرك النعمان
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، سالم ابن أبى الجعد لم يدرك النعمان