بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 23740 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ كُهَيْلٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ، أَبِي
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ كُهَيْلٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا، فَقَالَ لَهُ أَبِي : اقْتَصَّ، ثُمَّ قَالَ: كُنَّا مَعْشَرَ بَنِي مُقَرِّنٍ سَبْعَةً، لَيْسَ لَنَا خَادِمٌ إِلَّا وَاحِدَةٌ فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْتِقُوهَا"، فَقِيلَ لَهُ: لَيْسَ لَهُمْ خَادِمٌ غَيْرُهَا، قَالَ:" لِتَخْدُمَنَّهُمْ، فَإِذَا اسْتَغْنَوْا عَنْهَا فَلْيُعْتِقُوهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آل سوید کی ایک باندی کو تھپڑ مار دیا حضرت سوید رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ چہرے پر مارنا حرام ہے ہم لوگ سات بھائی تھے ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا ہم میں سے کسی نے ایک مرتبہ اسے تھپڑ مار دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اسے آزاد کردیں بھائیوں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس تو اس کے علاوہ کوئی اور خادم نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر اس سے خدمت لیتے رہیں اور جب اس سے بےنیاز ہوجائیں تو اس کا راستہ چھوڑ دیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23740]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23741 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، حُصَيْنٍ ، هِلَالَ بْنَ يِسَافٍ ، سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ يِسَافٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ: كُنَّا نَبِيعُ البَزَّ فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، قَالَ: فَخَرَجَتْ جَارِيَةٌ لِسُوَيْدٍ، فَكَلَّمَتْ رَجُلًا مِنَّا فَسَبَّتْهُ، فَلَطَمَ وَجْهَهَا، فَقَالَ سُوَيْدٌ:" لَطَمْتَهَا! لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَسَابِعُ سَبْعَةٍ مِنْ إِخْوَتِي مَا لَنَا إِلَّا خَادِمٌ، فَعَمَدَ أَحَدُنَا فَلَطَمَهَا، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعِتْقِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آل سوید کی ایک باندی کو تھپڑ مار دیا حضرت سوید رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ چہرے پر مارنا حرام ہے ہم لوگ سات بھائی تھے ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا ہم میں سے کسی نے ایک مرتبہ اسے تھپڑ مار دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اسے آزاد کردیں بھائیوں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس تو اس کے علاوہ کوئی اور خادم نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر اس سے خدمت لیتے رہیں اور جب اس سے بےنیاز ہوجائیں تو اس کا راستہ چھوڑ دیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23741]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1685
الحكم: إسناده صحيح، م: 1685
حدیث نمبر: 23742 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، حُصَيْنٌ ، هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، سُوَيْدٌ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أخبرنا حُصَيْنٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ نَازِلًا فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، قَالَ: فَلَطَمَ خَادِمًا، قَالَ: فَغَضِبَ سُوَيْدٌ ، فَقَالَ:" أَمَا وَجَدْتَ إِلَّا حُرَّ وَجْهِهِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي وَنَحْنُ سَابِعُ سَبْعَةٍ مِنْ وَلَدِ مُقَرِّنٍ، وَمَا لَنَا خَادِمٌ إِلَّا وَاحِدٌ عَمَدَ إِلَيْهِ وَاحِدٌ فَلَطَمَهُ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَجَعْنَا أَنْ نُعْتِقَهُ، فَأَعْتَقْنَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آل سوید کی ایک باندی کو تھپڑ مار دیا حضرت سوید رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ چہرے پر مارنا حرام ہے ہم لوگ سات بھائی تھے ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا ہم میں سے کسی نے ایک مرتبہ اسے تھپڑ مار دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اسے آزاد کردیں بھائیوں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس تو اس کے علاوہ کوئی اور خادم نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر اس سے خدمت لیتے رہیں اور جب اس سے بےنیاز ہوجائیں تو اس کا راستہ چھوڑ دیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23742]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23743 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي حَمْزَةَ ، هِلَالًا ، سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالًا ، رَجُلًا مِنْ بَنِي مَازِنٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَبِيذٍ فِي جَرَّةٍ فَسَأَلْتُهُ، فَنَهَانِي عَنْهَا فَكَسَرْتُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس مٹکے میں نبیذ لے کر آیا اور اس کے متعلق حکم دریافت کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اس سے منع فرما دیا چناچہ میں نے وہ مٹکا پکڑا اور توڑ ڈالا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23743]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة هلال المازني
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة هلال المازني