بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 23701 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَقُومُ عَلَى رَأْسِ الْمُخْتَارِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَتْ لِي كِذَابَتُهُ، هَمَمْتُ أَيْمُ اللَّهِ أَنْ أَسُلَّ سَيْفِي، فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، حَتَّى تَذَكَّرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ آمَنَ رَجُلًا عَلَى نَفْسِهِ فَقَتَلَهُ، أُعْطِيَ لِوَاءَ الْغَدْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
رفاعہ بن شداد کہتے ہیں کہ میں ایک دن مختار کے سرہانے کھڑا تھا جب اس کا جھوٹا ہونا مجھ پر روشن ہوگیا تو بخدا! میں نے اس بات کا ارادہ کرلیا کہ اپنی تلوار کھینچ کر اس کی گردن اڑا دوں لیکن پھر مجھے ایک حدیث یاد آگئی جو مجھ سے حضرت عمرو بن الحمق رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کسی مسلمان کو پہلے اس کی جان کی امان دے دے پھر بعد میں اسے قتل کر دے تو قیامت کے دن اسے دھوکے کا جھنڈا دیا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23701]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23702 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عِيسَى الْقَارِئُ أَبُو عُمَرَ ، السَّدِيُّ ، رِفَاعَةَ الْقِتْبَانِيِّ ، عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى الْقَارِئُ أَبُو عُمَرَ ، حَدَّثَنِي السَّدِيُّ ، عَنْ رِفَاعَةَ الْقِتْبَانِيِّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ، قَالَ: فَأَلْقَى لِي وِسَادَةً، وَقَالَ: لَوْلَا أَنَّ أَخِي جِبْرِيلَ قَامَ عَنْ هَذِهِ لَأَلْقَيْتُهَا لَكَ، قَالَ: فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَذَكَرْتُ حَدِيثًا، حَدَّثَنِي بِهِ أَخِي عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا مُؤْمَنٍ أَمَّنَ مُؤْمِنًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ، فَأَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِيءٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
رفاعہ بن شداد کہتے ہیں کہ میں ایک دن مختار کے سرہانے کھڑا تھا جب اس کا جھوٹا ہونا مجھ پر روشن ہوگیا تو بخدا! میں نے اس بات کا ارادہ کرلیا کہ اپنی تلوار کھینچ کر اس کی گردن اڑا دوں لیکن پھر مجھے ایک حدیث یاد آگئی جو مجھ سے حضرت عمرو بن الحمق رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کسی مسلمان کو پہلے اس کی جان کی امان دے دے پھر بعد میں اسے قتل کر دے تو میں قاتل سے بری ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23702]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن