بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ الْمُسَيَّبِ بْنِ حَزْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 23673 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجَدِّهِ، جَدِّ سَعِيدٍ: " مَا اسْمُكَ؟" قَالَ: حَزْنٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ أَنْتَ سَهْلٌ"، فَقَالَ: لَا أُغَيِّرُ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي ، قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ: فَمَا زَالَتْ فِينَا حُزُونَةٌ بَعْدُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سعید بن مسیب (رح) سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے دادا سے پوچھا کہ تمہارا کیا نام ہے؟ انہوں نے بتایا " حزن " نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں تمہارا نام سہل ہے انہوں نے کہا کہ میرے باپ نے میرا جو نام رکھا ہے میں اسے بدلنا نہیں چاہتا سعید کہتے ہیں کہ اس کے بعد سے ہمارے خاندان میں ہمیشہ غمگینی رہی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23673]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2190
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2190
حدیث نمبر: 23674 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ دَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أَبُو جَهْلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، فَقَالَ:" أَيْ عَمِّ، قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، كَلِمَةً أُحَاجُّ بِهَا لَكَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ: يَا أَبَا طَالِبٍ، أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟! قَالَ: فَلَمْ يَزَالَا يُكَلِّمَانِهِ حَتَّى قَالَ آخِرَ شَيْءٍ كَلَّمَهُمْ بِهِ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ"، فَنَزَلَتْ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ سورة التوبة آية 113 قَالَ: َونَزَلَتْ فِيهِ إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ سورة القصص آية 56 .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب خواجہ ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے ان کے پاس اس وقت ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ موجود تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چچاجان! لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلیجئے یہ ایک ایسا کلمہ ہوگا جس کے ذریعے میں اللہ کے یہاں آپ کے لئے حجت پکڑ سکوں گا ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ کہنے لگے کہ اے ابوطالب! کیا تم عبدالمطلب کے دین سے پھر جاؤ گے؟ وہ دونوں مسلسل یہی کہتے رہے حتیٰ کہ ابوطالب کے منہ سے آخری کلمہ جو نکلا وہ یہ تھا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر قائم ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک مجھے منع نہیں کیا جاتا میں آپ کے حق میں بخشش کی دعا کرتا رہوں گا پھر یہ آیت نازل ہوئی کہ " پیغمبر اور اہل ایمان کے لئے مشرکین کے حق میں بخشش کی دعا کرنا مناسب نہیں ہے اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار ہوں نیز یہ آیت نازل ہوئی کہ جسے آپ چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے۔ " [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23674]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3884، م: 26
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3884، م: 26
حدیث نمبر: 23675 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، طَارِقٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ: كَانَ أَبِي مِمَّنْ بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ، فَقَالَ: انْطَلَقْنَا فِي قَابِلٍ حَاجِّينَ، فَعُمِّيَ عَلَيْنَا مَكَانُهَا، فَإِنْ كَانَتْ بَيَّنَتْ لَكُمْ، فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد بیعت رضوان جو ایک درخت کے نیچے ہوئی تھی کے شرکاء میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ اگلے سال جب ہم حج کے ارادے سے روانہ ہوئے تو بیعت کی وہ جگہ ہم سے پوشیدہ ہوگئی اگر وہ ظاہر رہتی تو تم بہتر جانتے ہو (کہ کیا ہوتا؟) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23675]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4164، م: 1859، وهذا إسناد قوي
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4164، م: 1859، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 23676 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، طَارِقٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ طَارِقٍ ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ الشَّجَرَةُ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي : أَنَّهُ كَانَ ذَلِكَ الْعَامَ مَعَهُمْ، فَنَسُوهَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد بیعت رضوان جو ایک درخت کے نیچے ہوئی تھی کے شرکاء میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ اگلے سال جب ہم حج کے ارادے سے روانہ ہوئے تو بیعت کی وہ جگہ ہم سے پوشیدہ ہوگئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23676]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4164، م: 1859، وهذا إسناد قوي
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4164، م: 1859، وهذا إسناد قوي