بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 23491 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَطَاءُ بنُ السَّائِب ، عَرْفَجَةَ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبرَنَا عَطَاءُ بنُ السَّائِب ، عَنْ عَرْفَجَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ ذَكَرَ رَمَضَانَ، فَقَالَ: " تُفْتَحُ فِيهِ أَبوَاب الْجَنَّةِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبوَاب النَّارِ، وَتُصَفَّدُ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، وَيُنَادِي فِيهِ مُنَادٍ كُلَّ لَيْلَةٍ: يَا باغِيَ الْخَيْرِ، هَلُمَّ، وَيَا باغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ، حَتَّى يَنْقَضِيَ رَمَضَانُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ماہ رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور اس میں ہر سرکش شیطان کو پابند سلاسل کردیا جاتا ہے اور ہر رات ایک منادی نداء لگاتا ہے کہ اسے خیر کے طالب! آگے بڑھ اور اے شر کے طالب! رک جا، یہاں تک کہ رمضان ختم ہوجائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23491]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23492 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبي صَخْرٍ الْعُقَيْلِيِّ ، رَجُلٌ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبي صَخْرٍ الْعُقَيْلِيِّ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَاب، قَالَ: جَلَبتُ جَلُوبةً إِلَى الْمَدِينَةِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ بيْعَتِي، قُلْتُ: لَأَلْقَيَنَّ هَذَا الرَّجُلَ، فَلَأَسْمَعَنَّ مِنْهُ، قَالَ: فَتَلَقَّانِي بيْنَ أَبي بكْرٍ، وَعُمَرَ يَمْشُونَ فَتَبعْتُهُمْ فِي أَقْفَائِهِمْ، حَتَّى أَتَوْا عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ نَاشِرًا التَّوْرَاةَ يَقْرَؤُهَا، يُعَزِّي بهَا نَفْسَهُ عَلَى ابنٍ لَهُ فِي الْمَوْتِ، كَأَحْسَنِ الْفِتْيَانِ وَأَجْمَلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْشُدُكَ بالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ، هَلْ تَجِدُ فِي كِتَابكَ ذَا صِفَتِي وَمَخْرَجِي؟"، فَقَالَ برَأْسِهِ هَكَذَا، أَيْ: لَا، فَقَالَ ابنُهُ: إِنِّي وَالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ، إِنَّا لَنَجِدُ فِي كِتَابنَا صِفَتَكَ وَمَخْرَجَكَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ:" أَقِيمُوا الْيَهُودَ عَنْ أَخِيكُمْ"، ثُمَّ وَلِيَ كَفَنَهُ، وَحَنَّطَهُ، وَصَلَّى عَلَيْهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک دیہاتی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں میں ایک اونٹ مدینہ منور لے کر آیاجب میں اسے بیچ کر فارغ ہوگیا تو میں نے سوچا کہ اس آدمی سے ملتا ہوں اور اس کی باتیں سنتا ہوں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے حضرت ابوبکروعمر رضی اللہ عنہ کے درمیان چلتے ہوئے ملے میں بھی ان کے پیچھے چلنے لگا حتیٰ کہ وہ تینوں ایک یہودی کے پاس پہنچے جو تورات کھولے اسے پڑھ رہا تھا اور اس کے ذریعے اپنے آپ کو تسلی دے رہا تھا کہ اس کا انتہائی حسین و جمیل جوان بیٹا قریب المرگ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا میں تمہیں اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے تورات کو نازل کیا ہے کہ کیا تم تورات میں میری یہی صفات اور بعثت کے یہی حالات پڑھتے ہو؟ اس نے اپنے سر سے نفی میں اشارہ کردیا اس کے قریب المرگ بیٹے نے کہا ہاں! اس ذات کی قسم جس نے تورات کو نازل کیا ہے ہم اپنی کتاب میں آپ کی یہی صفات اور بعثت کے یہی حالات پاتے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپ اللہ کے رسول ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کے پاس سے ان یہودیوں کو اٹھا دو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود اس کے کفن دفن اور نماز جنازہ کا انتظام فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23492]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى صخر، وقد اختلف فى صحبته
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى صخر، وقد اختلف فى صحبته