إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوب ، أَبي قِلَابةَ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوب ، عَنْ أَبي قِلَابةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ مِنْ بعْدِكُمْ أَوْ إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ الْكَذَّاب الْمُضِلَّ، وَإِنَّ رَأْسَهُ مِنْ وَرَائِهِ حُبكٌ حُبكٌ، وَإِنَّهُ سَيَقُولُ: أَنَا رَبكُمْ، فَمَنْ قَالَ: كَذَبتَ لَسْتَ رَبنَا، وَلَكِنَّ اللَّهَ رَبنَا، وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا، وَإِلَيْهِ أَنَبنَا، وَنَعُوذُ باللَّهِ مِنْكَ، فَلَا سَبيلَ لَهُ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں میں نے ایک آدمی کو دیکھا جسے لوگوں نے اپنے حلقے میں گھیر رکھا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (احادیث بیان کر رہا تھا) تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے بعد ایک گمراہ کن کذاب آئے گا جس کے سر میں پیچھے سے راستے بنے ہوں گے اور وہ دعویٰ کرے گا کہ میں تمہارا رب ہوں سو جو شخص یہ کہہ دے کہ تو ہمارا رب نہیں ہے ہمارا رب تو اللہ ہے ہم اسی پر توکل کرتے اور رجوع کرتے ہیں اور ہم تیرے شر سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں تو دجال کو اس پر تسلط حاصل نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23487]
الحكم: إسناده صحيح