أَبو عَامِرٍ ، عَبادٌ يَعْنِي ابنَ رَاشِدٍ ، الْحَسَنِ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا أَبو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبادٌ يَعْنِي ابنَ رَاشِدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بنِي سَلِيطٍ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى باب مَسْجِدِهِ مُحْتَب، وَعَلَيْهِ ثَوْب لَهُ قُطْنٌ لَيْسَ عَلَيْهِ ثَوْب غَيْرُهُ، وَهُوَ يَقُولُ: " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ"، ثُمَّ أَشَارَ بيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ يَقُولُ:" التَّقْوَى هَاهُنَا، التَّقْوَى هَاهُنَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنوسلیط کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے ان قیدیوں کے متعلق گفتگو کرنے کے لئے حاضر ہوا جو زمانہ جاہلیت میں پکڑ لئے گئے تھے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف فرما تھے اور لوگوں نے حلقہ بنا کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گھیر رکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک موٹی تہنبد باندھ رکھی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی انگلیوں سے اشارہ فرما رہے تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان، مسلمان کا بھائی ہوتا ہے وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بےیارو مددگار چھوڑتا ہے تقویٰ یہاں ہوتا ہے تقویٰ یہاں ہوتا ہے یعنی دل میں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23229]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن