مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ ، مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَصَابَنَا طَشٌّ وَظُلْمَةٌ، فانتظرنا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ لَنَا، فَخَرَجَ فَأَخَذَ بِيَدِي، فَقَالَ: " قُلْ: فَسَكَتُّ، قَالَ: قُلْ: قُلْتُ: مَا أَقُولُ؟ قَالَ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ، حِينَ تُمْسِي وَحِينَ تُصْبِحُ ثَلَاثًا، يَكْفِيكَ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارش بھی ہو رہی تھی اور اندھیرا بھی تھا ہم لوگ نماز کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے اسی اثناء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے اور میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہو میں خاموش رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا تو میں نے پوچھا کیا کہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قل ہو اللہ احد اور معوذتین صبح و شام تین تین مرتبہ پڑھ لیا کرو روزانہ دو مرتبہ تمہاری کفایت ہوگی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22664]
الحكم: إسناده حسن