بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي شَهْمٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 22511 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ ، بَيَانٍ ، قَيْسٍ ، أَبِي شَهْمٍ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي شَهْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَّتْ بِي جَارِيَةٌ بِالْمَدِينَةِ، فَأَخَذْتُ بِكَشْحِهَا، قَالَ: وَأَصْبَحَ الرَّسُولُ يُبَايِعُ النَّاسَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَلَمْ يُبَايِعْنِي، فَقَالَ: " صَاحِبُ الْجُبَيْذَةِ! قَالَ: قُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَعُودُ , قَالَ:" فَبَايَعَنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو شہم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں ایک باندی میرے پاس سے گذری تو میں نے اسے اس کے پہلو سے پکڑ لیا اگلے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے بیعت لینا شروع کی اور میں بھی حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے بیعت نہیں لی اور فرمایا تم باندی کو کھینچنے والے ہو؟ میں نے عرض کیا اللہ کی قسم! آئندہ کبھی ایسا نہیں کروں گا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے بھی بیعت لے لی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22511]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22512 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ ، بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي شَهْمٍ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي شَهْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا بَطَّالًا، قَالَ: فَمَرَّتْ بِي جَارِيَةٌ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، إِذْ هَوَيْتُ إِلَى كَشْحِهَا، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ، قَالَ: فَأَتَى النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُونَهُ، فَأَتَيْتُهُ فَبَسَطْتُ يَدِي لِأُبَايِعَهُ، فَقَبَضَ يَدَهُ، وَقَالَ: " أَحْسِبُكَ صَاحِبُ الْجُبَيْذَةِ يَعْنِي: أَمَا إِنَّكَ صَاحِبُ الْجُبَيْذَةِ أَمْسِ" , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْنِي، فَوَاللَّهِ لَا أَعُودُ أَبَدًا , قَالَ:" فَنَعَمْ إِذًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو شہم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں ایک باندی میرے پاس سے گذری تو میں نے اسے اس کے پہلو سے پکڑ لیا اگلے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے بیعت لینا شروع کی اور میں بھی حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے بیعت نہیں لی اور فرمایا تم باندی کو کھینچنے والے ہو؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے بیعت کرلیجئے اللہ کی قسم! آئندہ کبھی ایسا نہیں کروں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر ٹھیک ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22512]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف ، يزيد بن عطاء فيه لين ، فقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف ، يزيد بن عطاء فيه لين ، فقد توبع