حَجَّاجٌ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنَ ، سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ , أَنَّ أُمَّهُ مَاتَتْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ فَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ" , قَالَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: سَقْيُ الْمَاءِ" , قَالَ: فَتِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی والدہ فوت ہوئیں تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! میری والدہ فوت ہوگئی ہیں کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کرسکتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! انہوں نے پوچھا کہ پھر کون سا صدقہ سب سے افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانی پلانا، راوی کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں آل سعد کے پانی پلانے کی اصل وجہ یہی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22459]
حکم دارالسلام
إسناده منقطع، الحسن لم يدرك سعدا
الحكم: إسناده منقطع، الحسن لم يدرك سعدا