بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ رَجُلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 22338 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو الْمَلِيحِ ، مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ وَكَانَ لِجَدِّهِ صُحْبَةٌ , أَنَّهُ خَرَجَ زَائِرًا لِرَجُلٍ مِنْ إِخْوَانِهِ، فَبَلَغَهُ شَكَاتُهُ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَيْتُكَ زَائِرًا عَائِدًا وَمُبَشِّرًا , قَالَ: كَيْفَ جَمَعْتَ هَذَا كُلَّهُ؟ قَالَ: خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ زِيَارَتَكَ، فَبَلَغَتْنِي شَكَاتُكَ، فَكَانَتْ عِيَادَةً، وَأُبَشِّرُكَ بِشَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا سَبَقَتْ لِلْعَبْدِ مِنَ اللَّهِ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهِ، ابْتَلَاهُ اللَّهُ فِي جَسَدِهِ، أَوْ فِي مَالِهِ، أَوْ فِي وَلَدِهِ، ثُمَّ صَبَّرَهُ حَتَّى يُبْلِغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن خالد اپنے دادا سے " جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شرف صحبت حاصل تھا " نقل کرتے ہیں کہ ایک دن وہ اپنے کسی مسلمان بھائی سے ملاقات کے ارادے سے نکلے راستے میں ان کی بیماری کا پتہ چلا تو ان کے پاس پہنچ کر کہا کہ میں آپ کے پاس ملاقات کے لئے، عیادت کے لئے اور خوشخبری دینے کے لئے آیا ہوں، اس نے پوچھا کہ یہ ساری چیزیں ایک جگہ کیسے جمع ہوگئیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں جس وقت نکلا تھا تو اس وقت آپ سے ملاقات کا ارادہ تھا راستے میں آپ کی بیماری کی خبر سنی تو یہاں پہنچ کر عیادت ہوگئی اور رہی خوشخبری تو وہ یہ ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ کے یہاں کسی بندے کا مقام و مرتبہ اس درجہ سے آگے بڑھ جاتا ہے جہاں تک اس کا عمل نہیں پہنچتا تو اللہ تعالیٰ اسے جسمانی، مالی یا اولاد کی طرف سے کسی آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے پھر اسے اس پر صبر بھی عطاء کردیتا ہے یہاں تک کہ وہ اس درجے تک جا پہنچتا ہے جو اس کے لئے طے ہوچکا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22338]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن خالد ومن فوقه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن خالد ومن فوقه