بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 21946 مسند احمد
بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ , قَالَ: كُنْتُ أَقُومُ عَلَى رَأْسِ الْمُخْتَارِ , فَلَمَّا تَبَيَّنْتُ كِذَابَتَهُ هَمَمْتُ , وَايْمُ اللَّهِ أَنْ أَسُلَّ سَيْفِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ , حَتَّى ذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى نَفْسِهِ فَقَتَلَهُ , أُعْطِيَ لِوَاءَ الْغَدْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
رفاعہ بن شداد کہتے ہیں کہ میں ایک دن مختار کے سرہانے کھڑا تھا جب اس کا جھوٹا ہونا مجھ پر روشن ہوگیا تو واللہ میں نے اس بات کا ارادہ کرلیا کہ اپنی تلوار کھینچ کر اس کی گردن اڑا دوں، لیکن پھر مجھے ایک حدیث یاد آگئی جو مجھ سے حضرت عمرو بن الحمق رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کسی مسلمان کو پہلے اس کی جان کی امان دے دے پھر بعد میں اسے قتل کر دے تو قیامت کے دن اسے دھوکے کا جھنڈا دیا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21946]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21947 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عِيسَى الْقَارِئُ أَبُو عُمَرَ بْنُ عُمَرَ ، السُّدِّيُّ ، رِفَاعَةَ الْقِتْبَانِيِّ ، عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى الْقَارِئُ أَبُو عُمَرَ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا السُّدِّيُّ , عَنْ رِفَاعَةَ الْقِتْبَانِيِّ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ فَأَلْقَى لِي وِسَادَةً , وَقَالَ: لَوْلَا أَنَّ أَخِي جِبْرِيلَ قَامَ عَنْ هَذِهِ لَأَلْقَيْتُهَا لَكَ , قَالَ: فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ , فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ أَخِي عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا مُؤْمِنٍ أَمَّنَ مُؤْمِنًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ , فَأَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِيءٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
رفاعہ بن شداد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مختار کے پاس گیا، اس نے میرے لئے تکیہ رکھا اور کہنے لگا کہ اگر میرے بھائی جبرائیل علیہ السلام اس سے نہ اٹھے ہوتے تو میں یہ تکیہ تمہارے لئے رکھتا میں اس وقت مختار کے سرہانے کھڑا تھا جب اس کا جھوٹا ہونا مجھ پر روشن ہوگیا تو واللہ میں نے اس بات کا ارادہ کرلیا کہ اپنی تلوار کھینچ کر اس کی گردن اڑا دوں لیکن پھر مجھے ایک حدیث یاد آگئی جو مجھ سے حضرت عمرو بن الحمق رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کسی مسلمان کو پہلے اس کی جان کی امان دے دے پھر بعد میں اسے قتل کر دے تو میں قاتل سے بری ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21947]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21948 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ , عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ , عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ , قَالَ: كُنْتُ أَقُومُ عَلَى رَأْسِ الْمُخْتَارِ , فَلَمَّا عَرَفْتُ كَذِبَهُ هَمَمْتُ أَنْ أَسُلَّ سَيْفِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ , فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى نَفْسِهِ فَقَتَلَهُ , أُعْطِيَ لِوَاءَ الْغَدْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
رفاعہ بن شداد کہتے ہیں کہ میں ایک دن مختار کے سرہانے کھڑا تھا جب اس کا جھوٹا ہونا مجھ پر روشن ہوگیا تو واللہ میں نے اس بات کا ارادہ کرلیا کہ اپنی تلوار کھینچ کر اس کی گردن اڑا دوں، لیکن پھر مجھے ایک حدیث یاد آگئی جو مجھ سے حضرت عمرو بن الحمق رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کسی مسلمان کو پہلے اس کی جان کی امان دے دے پھر بعد میں اسے قتل کر دے تو قیامت کے دن اسے دھوکے کا جھنڈا دیا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21948]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21949 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَبِيهِ ، عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ , حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ , أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ" , قِيلَ: وَمَا اسْتَعْمَلَهُ؟ قَالَ:" يُفْتَحُ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ بَيْنَ يَدَيْ مَوْتِهِ حَتَّى يَرْضَى عَنْهُ مَنْ حَوْلَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب اللہ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے استعمال کرلیتا ہے کسی نے پوچھا استعمال کرنے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا اس کی موت سے پہلے اس کے لئے اعمال صالحہ کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے حتیٰ کہ اس کے آس پاس کے لوگ اس سے راضی ہوجاتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21949]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح