بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 21940 مسند احمد
بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عُمَيْرٌ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ , حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ , قَالَ: شَهِدْتُ خَيْبَرَ مَعَ سَادَتِي , فَكَلَّمُوا فِيَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَمَرَنِي فَقُلِّدْتُ سَيْفًا , فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ , فَأُخْبِرَ أَنِّي مَمْلُوكٌ فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں غزوہ خیبر میں اپنے آقاؤں کے ساتھ شریک تھا انہوں نے میرے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بات کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے بارے حکم دیا اور میرے گلے میں تلوار لٹکا دی گئی (وہ اتنی بڑی تھی کہ) میں اسے زمین گھسیٹتا ہوا چلتا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا گیا کہ میں غلام ہوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باقی ماندہ سامان میں سے کچھ مجھے بھی دینے کا حکم دے دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21940]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21941 مسند احمد
رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، عُمَيْرٍ
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخُو إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ , وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا , قَالَ: وَكَانَ يَفْضُلُ عَلَى إِسْمَاعِيلَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ , عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ , قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ سَادَتِي خَيْبَرَ , فَأَمَرَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلِّدْتُ سَيْفًا , فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ , قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ عَبْدٌ مَمْلُوكٌ , قَالَ: فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ , قَالَ: وَعَرَضْتُ عَلَيْهِ رُقْيَةً كُنْتُ أَرْقِي بِهَا الْمَجَانِينَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , قَالَ: " اطْرَحْ مِنْهَا كَذَا وَكَذَا , وَارْقِ بِمَا بَقِيَ" , قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ: وَأَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يَرْقِي بِهَا الْمَجَانِينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں غزوہ خیبر میں اپنے آقاؤں کے ساتھ شریک تھا انہوں نے میرے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بات کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے بارے حکم دیا اور میرے گلے میں تلوار لٹکا دی گئی (وہ اتنی بڑی تھی کہ) میں اسے زمین گھسیٹتا ہوا چلتا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا گیا کہ میں غلام ہوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باقی ماندہ سامان میں سے کچھ مجھے بھی دینے کا حکم دے دیا۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے ایک منتر پیش کیا جس سے میں زمانہ جاہلیت میں مجنونوں کو جھاڑا کرتا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس میں سے یہ یہ کلمات حذف کردو اور باقی سے جھاڑ لیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21941]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن