بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 21936 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، بِحَسَّانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدٍ , قَالَ: مَرَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ , فَلَحَظَ إِلَيْهِ , قَالَ: كُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ , ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ , فَقَالَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَجِبْ عَنِّي , اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ" , قَالَ: نَعَمْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے جو کہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کن اکھیوں سے گھورا تو وہ کہنے لگے کہ میں اس مسجد میں اس وقت اشعار پڑھا کرتا تھا جب یہاں تم سے بہتر ذات موجود تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21936]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3212، م: 2485
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3212، م: 2485
حدیث نمبر: 21937 مسند احمد
يَعْلَى ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَسَّانَ
حَدَّثَنَا يَعْلَى , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: مَرَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , عَلَى حَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ الشِّعْرَ فِي الْمَسْجِدِ , فَقَالَ: فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُنْشِدُ الشِّعْرَ؟ قَالَ: " كُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ , أَوْ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے جو کہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کن اکھیوں سے گھورا تو وہ کہنے لگے کہ میں اس مسجد میں اس وقت اشعار پڑھا کرتا تھا جب یہاں تم سے بہتر ذات موجود تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21937]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3212، م: 2485، وهذا إسناد منقطع، يحيى بن عبدالرحمن لم يشهد القصة
الحكم: حديث صحيح، خ: 3212، م: 2485، وهذا إسناد منقطع، يحيى بن عبدالرحمن لم يشهد القصة
حدیث نمبر: 21938 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، حَسَّانُ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , قَالَ: مَرَّ عُمَرُ عَلَى حَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ , فَقَالَ: مَهْ , قَالَ لَهُ حَسَّانُ : " قَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ" , قَالَ: فَانْصَرَفَ عُمَرُ وَهُوَ يَعْرِفُ أَنَّهُ يُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے جو کہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کن اکھیوں سے گھورا تو وہ کہنے لگے کہ میں اس مسجد میں اس وقت اشعار پڑھا کرتا تھا جب یہاں تم سے بہتر ذات موجود تھی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے گئے کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ ان کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21938]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3212، م: 2485
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3212، م: 2485
حدیث نمبر: 21939 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، حَسَّانُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أخبرَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ , قَالَ: أَنْشَدَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ , فَمَرَّ عُمَرُ بِهِ فَلَحَظَهُ , فَقَالَ حَسَّانُ : " وَاللَّهِ لَقَدْ أَنْشَدْتُ فِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ" , فَخَشِيَ أَنْ يَرْمِيَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَازَ , وَتَرَكَهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے جو کہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کن اکھیوں سے گھورا تو وہ کہنے لگے کہ میں اس مسجد میں اس وقت اشعار پڑھا کرتا تھا جب یہاں تم سے بہتر ذات موجود تھی، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ انہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21939]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح