بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 17
حدیث نمبر: 21896 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٌ ، ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ : بِمَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدِ؟ , قَالَ: " كَانَ يَقْرَأُ بِقَافْ وَ اقْتَرَبَتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبیداللہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز عید میں کہاں سے تلاوت فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا سورت ق اور سورت قمر سے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21896]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 891
الحكم: إسناده صحيح، م: 891
حدیث نمبر: 21897 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ , ثُمَّ الْجُنْدَعِيِّ ، أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ , حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ , ثُمَّ الْجُنْدَعِيِّ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ , أَنَّهُمْ خَرَجُوا عَنْ مَكَّةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ , قَالَ: وَكَانَ لِلْكُفَّارِ سِدْرَةٌ يَعْكُفُونَ عِنْدَهَا , وَيُعَلِّقُونَ بِهَا أَسْلِحَتَهُمْ , يُقَالُ لَهَا: ذَاتُ أَنْوَاطٍ , قَالَ: فَمَرَرْنَا بِسِدْرَةٍ خَضْرَاءَ عَظِيمَةٍ , قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلْتُمْ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى: اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ سورة الأعراف آية 138 إِنَّهَا لَسُنَنٌ , لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ سُنَّةً سُنَّةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے حنین کے لئے نکلے کفار کی ایک بیری تھی جہاں وہ جا کر رکتے تھے اور اس سے اپنا اسلحہ لٹکایا کرتے تھے، اسے " ذات انواط " کہا جاتا تھا راستے میں ہم لوگ ایک سرسبز و شاداب بیری کے عظیم باغ سے گذرے تو ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہمارے لئے بھی اسی طرح کوئی " ذات انواط " مقرر کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم نے وہی بات کہی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی کہ جیسے ان کے معبود ہیں، اسی طرح ہمارا بھی کوئی معبود مقرر کر دیجئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تم ایک جاہل قوم ہو، یاد رکھو! تم لوگ پہلے لوگوں کے نقش قدم پر چلو گے اور ان کی ایک ایک عادت اختیار کر کے رہو گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21897]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21898 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ , عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا بِأَرْضٍ تُصِيبُنَا بِهَا مَخْمَصَةٌ , فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْمَيْتَةِ؟ قَالَ: " إِذَا لَمْ تَصْطَبِحُوا , وَلَمْ تَغْتَبِقُوا , وَلَمْ تَحْتَفِئُوا بَقْلًا , فَشَأْنُكُمْ بِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو واقد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہم جس علاقے میں رہتے ہیں، وہاں ہمیں اضطراری حالت پیش آتی رہتی ہے تو ہمارے لئے مردار میں سے کتنا حلال ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں صبح اور شام کسی بھی وقت کوئی بھی سبزی توڑنے کو نہ ملے تو تمہیں اس کی اجازت ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21898]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف جدا لأجل أبى إبراهيم محمد بن القاسم
الحكم: حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف جدا لأجل أبى إبراهيم محمد بن القاسم
حدیث نمبر: 21899 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، نَافِعِ بْنِ سَرْجِسَ ، أَبَا وَاقِدٍ الْبَكْرِيَّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَابْنُ بَكْرٍ , أخبرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ , عَنْ نَافِعِ بْنِ سَرْجِسَ , قَالَ: عُدْنَا أَبَا وَاقِدٍ الْبَكْرِيَّ , وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: الْبَدْرِيَّ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ , فَسَمِعَهُ يَقُولُ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً عَلَى النَّاسِ , وَأَطْوَلَ النَّاسِ صَلَاةً لِنَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع بن سرجس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت واقد رضی اللہ عنہ کے مرض الوفات میں ان کی بیمار پرسی کے لئے حاضر ہوئے تو میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھاتے وقت سب سے ہلکی نماز پڑھاتے تھے اور خود نماز پڑھتے وقت سب سے لمبی نماز پڑھتے تھے۔ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21899]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21900 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدِّيْلِيِّ ، أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أخبرَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدِّيْلِيِّ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ , قَالَ: خَرَجَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ حُنَيْنٍ , فَمَرَرْنَا بِسِدْرَةٍ , فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , اجْعَلْ لَنَا هَذِهِ ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لِلْكُفَّارِ ذَاتُ أَنْوَاطٍ , وَكَانَ الْكُفَّارُ يَنُوطُونَ بِسِلَاحِهِمْ بِسِدْرَةٍ , وَيَعْكُفُونَ حَوْلَهَا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ , هَذَا كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى: اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ سورة الأعراف آية 138 إِنَّكُمْ تَرْكَبُونَ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو واقدلیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے حنین کے لئے نکلے کفار کی ایک بیری تھی جہاں وہ جا کر رکتے تھے اور اس سے اپنا اسلحہ لٹکایا کرتے تھے، اسے " ذات انواط " کہا جاتا تھا راستے میں ہم لوگ ایک سرسبز و شاداب بیری کے عظیم باغ سے گذرے تو ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہمارے لئے بھی اسی طرح کوئی " ذات انواط " مقرر کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم نے وہی بات کہی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی کہ جیسے ان کے معبود ہیں، اسی طرح ہمارا بھی کوئی معبود مقرر کر دیجئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تم ایک جاہل قوم ہو، یاد رکھو! تم لوگ پہلے لوگوں کے نقش قدم پر چلو گے اور ان کی ایک ایک عادت اختیار کر کے رہو گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21900]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21901 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٌ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٌ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ , أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا بِأَرْضٍ تُصِيبُنَا بِهَا الْمَخْمَصَةُ , فَمَتَى تَحِلُّ لَنَا الْمَيْتَةُ؟ قَالَ: " إِذَا لَمْ تَصْطَبِحُوا , وَلَمْ تَغْتَبِقُوا , وَلَمْ تَحْتَفِئُوا , فَشَأْنُكُمْ بِهَا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو واقد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہم جس علاقے میں رہتے ہیں، وہاں ہمیں اضطراری حالت پیش آتی رہتی ہے تو ہمارے لئے مردار میں سے کتنا حلال ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں صبح اور شام کسی بھی وقت کوئی بھی سبزی توڑنے کو نہ ملے تو تمہیں اس کی اجازت ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21901]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه
الحكم: حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 21902 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ ، أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ , قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ , فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مَعْمَرٍ , وَمَعْمَرٌ أَتَمُّ حَدِيثًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21902]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21903 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَحَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَحَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , الْمَعْنَى , قَالَا: حدثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ , وَبِهَا نَاسٌ يَعْمِدُونَ إِلَى أَلْيَاتِ الْغَنَمِ , وَأَسْنِمَةِ الْإِبِلِ فَيَجُبُّونَهَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهِيَ مَيْتَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو بکری کی سرین اور اونٹوں کے کوہان کاٹ لیا کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جانور کے جسم کا جو حصہ بھی زندہ جانور سے کاٹا جائے وہ مردار ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21903]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل عبدالرحمن بن عبدالله
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل عبدالرحمن بن عبدالله
حدیث نمبر: 21904 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ , قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ , وَالنَّاسُ يَجُبُّونَ أَسْنِمَةَ الْإِبِلِ , وَيَقْطَعُونَ أَلْيَاتِ الْغَنَمِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهِيَ مَيْتَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو بکری کی سرین اور اونٹوں کے کوہان کاٹ لیا کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جانور کے جسم کا جو حصہ بھی زندہ جانور سے کاٹاجائے وہ مردار ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21904]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل عبدالرحمن بن عبدالله
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل عبدالرحمن بن عبدالله
حدیث نمبر: 21905 مسند احمد
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَاقِدٍ بْنِ أَبِي وَاقِدٍ بْنِ الليثي ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ وَاقِدٍ بْنِ أَبِي وَاقِدٍ بْنِ الليثي , عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِنِسَائِهِ فِي حَجَّتِهِ: " هَذِهِ , ثُمَّ ظُهُورَ الْحُصُرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ازواج مطہرات سے فرمایا یہ حج تم میرے ساتھ کر رہی ہو، اس کے بعد تمہیں گھروں میں بیٹھنا ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21905]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل واقد بن أبى واقد
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل واقد بن أبى واقد
حدیث نمبر: 21906 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ , قَالَ: كُنَّا نَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ فَيُحَدِّثُنَا , فَقَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: إِنَّا أَنْزَلْنَا الْمَالَ لِإِقَامِ الصَّلَاةِ , وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ , وَلَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ , لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِ ثَانٍ , وَلَوْ كَانَ لَهُ وَادِيَانِ , لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِمَا ثَالِثٌ , وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ , ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم سے وہ آیت بیان فرما دیتے، چانچہ ایک دن ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ہم نے مال اس لئے اتارا ہے کہ نماز قائم کی جائے اور زکوٰۃ ادا کی جائے اور اگر ابن آدم کے پاس سونے چاندی کی دو وادیاں بھی ہوں تو وہ ایک اور کی تمنا کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی، البتہ جو توبہ کرلیتا ہے اللہ اس پر متوجہ ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21906]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف من أجل هشام بن سعد
الحكم: إسناده ضعيف من أجل هشام بن سعد
حدیث نمبر: 21907 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَبِي مُرَّةَ ، أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ , حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ حَدِيثِ أَبِي مُرَّةَ , أَنَّ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ حَدَّثَهُ , قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ , فَجَاءَ أَحَدُهُمْ فَوَجَدَ فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ , وَجَلَسَ الْآخَرُ مِنْ وَرَائِهِمْ , وَانْطَلَقَ الثَّالِثُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَبَرِ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ" , قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" أَمَّا الَّذِي جَاءَ فَجَلَسَ , فَأَوَى فَآوَاهُ اللَّهُ , وَالَّذِي جَلَسَ مِنْ وَرَائِكُمْ فَاسْتَحَى , فَاسْتَحَى اللَّهُ مِنْهُ , وَأَمَّا الَّذِي انْطَلَقَ رَجُلٌ أَعْرَضَ , فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ تین آدمیوں کا وہاں سے گذر ہوا، ان میں سے ایک آدمی آیا، اسے لوگوں کے حلقے میں تھوڑی سی جگہ نظر آئی، وہ وہیں بیٹھ گیا دوسرا سب سے پیچھے بیٹھ گیا اور تیسرا آدمی واپس چلا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ان لوگوں کے متعلق نہ بتاؤں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جو یہاں آکر بیٹھ گیا، اس نے ٹھکانہ پکڑا اور اللہ نے اسے ٹھکانہ دے دیا اور جو تمہارے آخر میں بیٹھا، اس نے حیاء کھائی سو اللہ نے بھی اس سے حیاء کھائی اور جو شخص چلا گیا تو اس نے اعراض کیا سو اللہ نے بھی اس سے اعراض کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21907]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2176
الحكم: إسناده صحيح، م: 2176
حدیث نمبر: 21908 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، نَافِعِ بْنِ سَرْجِسَ ، أَبَا وَاقِدٍ الْكِنْدِيَّ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، نَافِعِ بْنِ سَرْجِسَ ، أَبَا وَاقِدٍ الْكِنْدِيَّ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ نَافِعِ بْنِ سَرْجِسَ , قَالَ: عُدْنَا أَبَا وَاقِدٍ الْكِنْدِيَّ في مرضه الذي توفي فيه , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً بِالنَّاسِ , وَأَطْوَلَ النَّاسِ صَلَاةً لِنَفْسِهِ" . حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا: أخبرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ نَافِعِ بْنِ سَرْجِسَ , قَالَ: عُدْنَا أَبَا وَاقِدٍ الْكِنْدِيَّ , قَالَ ابْنُ بَكْرٍ: الْبَدْرِيَّ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع بن سرجس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت واقد رضی اللہ عنہ کے مرض الوفات میں ان کی بیمار پرسی کے لئے حاضر ہوئے تو میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھاتے وقت سب سے ہلکی نماز پڑھاتے تھے اور خود نماز پڑھتے وقت سب سے لمبی نماز پڑھتے تھے۔ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21908]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21909 مسند احمد
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَيَعْلَى قَالَا: حدثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ صَفْوَانَ قَالَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَذَكَرَهُ
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21910 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ النُّوشَجَانِ وَهُوَ أَبُو جَعْفَرٍ السُّوَيْدِيُّ ، الدَّرَاوَرْدِيُّ ، زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، ابْنِ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النُّوشَجَانِ وَهُوَ أَبُو جَعْفَرٍ السُّوَيْدِيُّ , حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ , حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ , عَنِ ابْنِ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَزْوَاجِهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " هَذِهِ , ثُمَّ ظُهُورَ الْحُصُرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو واقد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر ازواج مطہرات سے فرمایا یہ حج تم میرے ساتھ کر رہی ہو، اس کے بعد تمہیں گھروں میں بیٹھنا ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21910]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 21911 مسند احمد
يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , وَسُرَيْجٌ , قَالَا: حدثَنَا فُلَيْحٌ , عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ , قَالَ: سَأَلَنِي عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ , عَمَّا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؟ قَالَ سُرَيْجٌ: بِمَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْخُرُوجِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: " قَرَأَ اقْتَرَبَتْ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبید اللہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز عید میں کہاں سے تلاوت فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا سورت ق اور سورت قمر سے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21911]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 891، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل فليح
الحكم: حديث صحيح، م: 891، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل فليح
حدیث نمبر: 21912 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، نَافِعُ بْنُ سَرْجِسَ ، أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ , حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ سَرْجِسَ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ , صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ , فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً عَلَى النَّاسِ , وَأَدْوَمَهُ عَلَى نَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع بن سرجس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت واقد رضی اللہ عنہ کے مرض الوفات میں ان کی بیمار پرسی کے لئے حاضر ہوئے تو میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھاتے وقت سب سے ہلکی نماز پڑھاتے تھے اور خود نماز پڑھتے وقت سب سے لمبی نماز پڑھتے تھے۔ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21912]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن