بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 21886 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، حَبِيبٍ الْأَنْصَارِيِّ ، ابْنَ أَبِي بَشِيرٍ ، وَابْنَةَ أَبِي بَشِيرٍ ، أَبِيهِمَا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ حَبِيبٍ الْأَنْصَارِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي بَشِيرٍ , وَابْنَةَ أَبِي بَشِيرٍ , يُحَدِّثَانِ عَنْ أَبِيهِمَا , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْحُمَّى: " أَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ , فَإِنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بخار کے متعلق فرمایا کہ اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو کیونکہ یہ جہنم کی تپش کا اثر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21886]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن أبى بشير وابنته مجهولان
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن أبى بشير وابنته مجهولان
حدیث نمبر: 21887 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، أَبَا بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيَّ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ , أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ , فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا: " لَا يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ , وَلَا قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ" . قَالَ إِسْمَاعِيلُ: قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ:" وَالنَّاسُ فِي صِيَامِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک قاصد کو یہ پیغام دے کر بھیجا کہ کسی اونٹ کی گردن میں تانت کا کوئی قلادہ یا کسی بھی قسم کا قلادہ نہ لٹکایا جائے بلکہ اسے کاٹ دیا جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21887]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3005، م: 2115
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3005، م: 2115
حدیث نمبر: 21888 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَبَّانُ بْنُ وَاسِعٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، وَأَبِي بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنِي حَبَّانُ بْنُ وَاسِعٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ , وَأَبِي بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى بِهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ , فَمَرَّتْ امْرَأَةٌ بِالْبَطْحَاءِ , فَأَشَارَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَأَخَّرِي , فَرَجَعَتْ حَتَّى صَلَّى , ثُمَّ مَرَّتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ اور ابو بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں نماز پڑھانے لگے تو ایک عورت وادی بطحاء میں سے گذری نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اشارے سے اسے پیچھے رہنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ پیچھے چلی گئی اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہوگئے تب وہاں سے گذری۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21888]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21889 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، هَارُونَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، مَخْرَمَةُ ، أَبِيهِ ، سَعِيدِ بْنِ نَافِعٍ ، أَبُو بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ , قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ نَافِعٍ , قَالَ: رَآنِي أَبُو بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ , صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى حِينَ طَلَعَتْ الشَّمْسُ , فَعَابَ ذَلِكَ عَلَيَّ وَنَهَانِي , ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُصَلُّوا حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ , فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں طلوع آفتاب کے وقت چاشت کی نماز پڑھ رہا تھا تو مجھے حضرت ابو بشیر انصاری رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا انہوں نے اس وقت نماز پڑھنے کو معیوب قرار دیتے ہوئے مجھے اس سے منع کیا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے اس وقت تک نماز نہ پڑھا کرو جب تک سورج بلند نہ ہوجائے کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21889]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل سعيد بن نافع
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل سعيد بن نافع