بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 9
حدیث نمبر: 21171 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدَ، فَدَخَلَ رَجُلٌ، فَقَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ، فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ، فَقُمْنَا جَمِيعًا، فَدَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ دَخَلَ هَذَا، فَقَرَأَ قِرَاءَةً غَيْرَ قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ، فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَآ" فَقَرَآ، قَالَ:" أَصَبْتُمَا" فَلَمَّا، قَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي، قَالَ: كَبُرَ عَلَيَّ، وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا رَأَى الَّذِي غَشِيَنِي، ضَرَبَ فِي صَدْرِي، فَفِضْتُ عَرَقًا، وَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اللَّهِ فَرَقًا، فَقَالَ:" يَا أُبَيُّ إِنَّ رَبِّي أَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ اقْرَأْ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ اقْرَأْهُ عَلَى حَرْفَيْنِ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ اقْرَأْهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، وَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ مَسْأَلَةٌ تَسْأَلُنِيهَا، قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي، وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ فِيهِ الْخَلْقُ، حَتَّى إِبْرَاهِيمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مسجد میں تھا ایک آدمی آیا اور اس طرح قرآن پڑھنے لگا جسے میں نہیں جانتا تھا پھر دوسرا آدمی آیا اور اس نے بھی مختلف انداز میں پڑھا ہم اکٹھے ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ آدمی مسجد میں آیا اور اس طرح قرآن پڑھا جس پر مجھے تعجب ہوا پھر یہ دوسرا آیا اور اس نے بھی مختلف انداز میں اسے پڑھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں سے پڑھنے کے لئے فرمایا چنانچہ ان دونوں نے تلاوت کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی تصویب فرمائی اس دن اسلام کے حوالے سے جو وسوسے میرے ذہن میں آئے کبھی ایسے وسوسے نہیں آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دیکھ کر میرے سینے پر اپنا ہاتھ مارا جس سے وہ تمام وساوس دور ہوگئے اور میں پانی پانی ہوگیا اور یوں محسوس ہوا کہ میں اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے پاس جبرائیل اور میکائیل (علیہم السلام) آئے تھے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ قرآن کریم کو ایک حرف پر پڑھئے میں نے اپنے رب کے پاس پیغام بھیجا کہ میری امت پر آسانی فرما اس طرح ہوتے ہوتے سات حروف تک بات آگئی اور اللہ نے میرے پاس پیغام بھیجا کہ اسے سات حروف پر پڑھئے اور ہر مرتبہ کے عوض آپ مجھ سے ایک درخواست کریں میں اسے قبول کرلوں گا چنانچہ میں نے دو مرتبہ تو اپنی امت کی بخشش کی دعاء کرلی اور تیسری چیز کو اس دن کے لئے رکھ دیا جب ساری مخلوق حتٰی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی میرے پاس آئیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21171]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 820
الحكم: إسناده صحيح، م: 820
حدیث نمبر: 21172 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ أَضَاةَ بَنِي غِفَارٍ، قَالَ: " فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ، قَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ، وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، ثُمَّ جَاءَ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفَيْنِ، فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ، إِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ"، ثُمَّ جَاءَه الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى ثَلاَثَةُ أَحْرُفٍ، فَقَالَ رَسُولُ الله صلى الله عليه و آله وسلم: أَسْأَلُ الله مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ، فَإِنَّ أُمَّتِي لا تُطِيقُ ذَلِكَ، ثُمَّ جَاءَ الرَابعة، فَقَالَ: إِنَّ الله يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ، فَقَدْ أَصَابُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنو غفار کے ایک کنوئیں کے پاس تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ کا پروردگار آپ کو حکم دیتا ہے کہ اپنی امت کو قرآن کریم ایک حرف پر پڑھائیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ سے درگذر اور بخشش کا سوال کرتا ہوں کیونکہ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام دوبارہ پیغام لے کر آئے اور دو حرفوں پر پڑھنے کی اجازت دی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا، تیسری مرتبہ بھی اسی طرح ہوا، چوتھی مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام سات حروف پر پڑھنے کا پیغام لے کر آئے اور کہنے لگے کہ وہ ان میں سے جس حرف کے مطابق بھی قرآءت کریں گے صحیح کریں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21172]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 821
الحكم: إسناده صحيح، م: 821
حدیث نمبر: 21173 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، عَزْرَةَ ، الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الأَكْبَرِ سورة السجدة آية 21، قَالَ:" الْمُصِيبَاتُ وَالدُّخَانُ قَدْ مَضَيَا، وَالْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اس آیت کے ذیل میں مروی ہے " ولنذیقنہم من العذاب الادنی۔۔۔۔۔۔۔۔ " کہ مصیبتیں اور دھواں ان دو چیزوں کا عذاب تو گذر چکا اور بطشہ اور لزام کا عذاب بھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21173]
حکم دارالسلام
هذا الاثر اسناد صحيح، م: 2799
الحكم: هذا الاثر اسناد صحيح، م: 2799
حدیث نمبر: 21174 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَبِي جَنَابٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ
حَدَّثَنِي عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ لِي أَخًا وَبِهِ وَجَعٌ! قَالَ: " وَمَا وَجَعُهُ؟"، قَالَ: بِهِ لَمَمٌ، قَالَ:" فَائْتِنِي بِهِ، فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَعَوَّذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَأَرْبَعِ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، وَهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ سورة البقرة آية 163 وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ، وَثَلَاثِ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، وَآيَةٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ سورة آل عمران آية 18 وَآيَةٍ مِنْ الْأَعْرَافِ إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ سورة الأعراف آية 54 وَآخِرِ سُورَةِ الْمُؤْمِنُونَ فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ سورة طه آية 114 وَآيَةٍ مِنْ سُورَةِ الْجِنِّ وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبِّنَا سورة الجن آية 3، وَعَشْرِ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الصَّافَّاتِ سورة الصافات آية 1، وَثَلَاثِ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْحَشْرِ، وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ سورة الإخلاص آية 1، وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ، فَقَامَ الرَّجُلُ كَأَنَّهُ لَمْ يَشْتَكِ قَطُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی! میرا ایک بھائی ہے جو تکلیف میں مبتلا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا اس کی تکلیف کیا ہے؟ اس نے بتایا کہ اس میں جنون و دیوانگی (پاگل پن) کا عنصر پایا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے میرے پاس لے کر آؤ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بلا کر اپنے سامنے بٹھایا اور اس پر سورت فاتحہ، سورت بقرہ کی ابتدائی چار آیتیں " والہکم الہ واحد۔ اور آیت الکرسی، سورت بقرہ کی آخری تین آیتیں سورت آل عمران کی ایک آیت شہد اللہ انہ لا الہ الا ھو۔۔۔۔۔۔۔ سورت اعراف کی ایک آیت ان ربکم اللہ الذی خلق السموات والارض۔۔۔۔۔۔ سورت مؤمنون کی آخری آیات فتعالی اللہ الملک الحق۔۔۔۔۔۔۔۔ سورت جن کی آیت وانہ تعالیٰ جد ربنا۔۔۔۔۔۔۔ سورت صافات کی ابتدائی دس آیات۔۔۔۔۔۔۔ سورت حشر کی آخری تین آیات۔۔۔۔۔۔۔ قل اللہ احد اور معوذتین پڑھ کر دم کیا وہ آدمی اس طرح کھڑا ہو گیا کہ گویا کبھی بیمار ہی نہ ہوا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21174]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى جناب، وقد اضطرب فى إسناده
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى جناب، وقد اضطرب فى إسناده
حدیث نمبر: 21175 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَسَدِيُّ لُوَيْنٌ ، الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنِ أَعْيَنَ ، عُمَرُ بْنُ سَالِمٍ الْأَفْطَسُ ، أَبِيهِ ، زُبَيْدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَسَدِيُّ لُوَيْنٌ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنِ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَالِمٍ الْأَفْطَسُ ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ، فَقَالَ:" يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ، فَلَمْ يَزَلْ يَزِيدُهُ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنو اضاءہ کے کنوئیں کے پاس تھے اور کہا اے محمد! اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت ایک حرف پر کریں اور آہستہ آہستہ بڑھاتے ہوئے سات کے عدد تک پہنچ گئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21175]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 820، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عمر بن سالم، ثم إنه غير محفوظ من رواية زبيد عن ابن أبى ليلى، وإنما المحفوظ هو من رواية مجاهد عن ابن أبى ليلى
الحكم: حديث صحيح، م: 820، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عمر بن سالم، ثم إنه غير محفوظ من رواية زبيد عن ابن أبى ليلى، وإنما المحفوظ هو من رواية مجاهد عن ابن أبى ليلى
حدیث نمبر: 21176 مسند احمد
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةَ ، الْحَكَمِْ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ الْحَكَمِْ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ، فَقَدْ أَصَابُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنو اضاءہ کے کنوئیں کے پاس تھے اور کہا اے محمد! اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت سات حروف پر کریں جس حرف کے مطابق تلاوت کریں گے صحیح کریں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21176]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 821
الحكم: إسناده صحيح، م: 821
حدیث نمبر: 21177 مسند احمد
جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ الْبَصْرِيُّ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، الْحَكَمِ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِأَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَمَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْهَا، فَهُوَ كَمَا قَالَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنو اضاءہ کے کنوئیں کے پاس تھے اور کہا اے محمد! اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت ایک حرف پر کریں۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور آہستہ آہستہ بڑھاتے ہوئے سات کے عدد تک پہنچ گئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21177]
حکم دارالسلام
صحيح، م: 820، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل جعفر بن مهران، لكنه توبع
الحكم: صحيح، م: 820، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل جعفر بن مهران، لكنه توبع
حدیث نمبر: 21178 مسند احمد
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: انْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بْنُ فُلاَنٍ، فَمَنْ أَنْتَ لَا أُمَّ لَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ حَتَّى عَدَّ تِسْعَةً، فَمَنْ أَنْتَ لَا أُمَّ لَكَ؟ قَالَ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، ابْنُ الْإِسْلَامِ، قَالَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام إِنَّ هَذَيْنِ الْمُنْتَسِبَيْنِ، أَمَّا أَنْتَ أَيُّهَا الْمُنْتَمِي أَوْ الْمُنْتَسِبُ إِلَى تِسْعَةٍ فِي النَّارِ فَأَنْتَ عَاشِرُهُمْ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا هَذَا الْمُنْتَسِبُ إِلَى اثْنَيْنِ فِي الْجَنَّةِ، فَأَنْتَ ثَالِثُهُمَا فِي الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دور باسعادت میں دو آدمیوں نے اپنا نسب نامہ بیان کیا ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا میں تو فلاں بن فلاں ہوں تو کون ہے؟ تیری ماں نہ رہے یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور میں دو آدمیوں نے اپنا نسب نامہ بیان کیا ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ میں تو فلاں بن فلاں ہوں اور اس نے اپنے آباؤ اجداد میں سے نو افراد کے نام گنوائے اور کہا کہ تو کون ہے؟ تیری ماں نہ رہے اس نے کہا میں فلاں بن فلاں بن اسلام ہوں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ان دونوں کے حوالے سے وحی بھیجی کہ اے نو آدمیوں کی طرف نسبت کرنے والے! وہ سب جہنم میں ہیں اور دسواں تو خود ان کے ساتھ جہنم میں ہوگا اور اے دو جنتی آدمیوں کی طرف اپنے نسب کو منسوب کرنے والے! تو جنت میں ان کے ساتھ تیسرا ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21178]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات
الحكم: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 21179 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ، فَدَخَلَ رَجُلٌ، فَصَلَّى، فَقَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، فَدَخَلَ رَجُلٌ آخَرُ، فَصَلَّى، فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ، دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، فَدَخَلَ هَذَا، فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَءُوا" فَقَرَءُوا، فَقَالَ:" قَدْ أَحْسَنْتُمْ"، فَسَقَطَ فِي نَفْسِي مِنَ التَّكْذِيبِ، وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ غَشِيَنِي، ضَرَبَ صَدْرِي، قَالَ: فَفِضْتُ عَرَقًا، وَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى رَبِّي فَرَقًا، فَقَالَ لِي:" أُبَيٌّ! إِنَّ رَبِّي أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَقَالَ لِي: اقْرَأْ عَلَى حَرْفٍ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي، فَرَدَّ إِلَيَّ أَنْ اقْرَأْ عَلَى حَرْفَيْنِ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي، فَرَدَّ عَلَيَّ أَنْ اقْرَأْ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، وَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتَهَا سُؤْلَكَ أُعْطِيكَهَا، فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي، وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ فِيهِ الْخَلْقُ، حَتَّى إِبْرَاهِيمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مسجد میں تھا ایک آدمی آیا اور اس طرح قرآن پڑھنے لگا جسے میں نہیں جانتا تھا پھر دوسرا آدمی آیا اور اس نے بھی مختلف انداز میں پڑھا ہم اکٹھے ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ آدمی مسجد میں آیا اور اس طرح قرآن پڑھا جس پر مجھے تعجب ہوا پھر یہ دوسرا آیا اور اس نے بھی مختلف انداز میں اسے پڑھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں سے پڑھنے کے لئے فرمایا چنانچہ ان دونوں نے تلاوت کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی تصویب فرمائی اس دن اسلام کے حوالے سے جو وسوسے میرے ذہن میں آئے کبھی ایسے وسوسے نہیں آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دیکھ کر میرے سینے پر اپنا ہاتھ مارا جس سے وہ تمام وساوس دور ہوگئے اور میں پانی پانی ہوگیا اور یوں محسوس ہوا کہ میں اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے پاس جبرائیل اور میکائیل (علیہم السلام) آئے تھے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ قرآن کریم کو ایک حرف پر پڑھئے میں نے اپنے رب کے پاس پیغام بھیجا کہ میری امت پر آسانی فرما اس طرح ہوتے ہوتے سات حروف تک بات آگئی اور اللہ نے میرے پاس پیغام بھیجا کہ اسے سات حروف پر پڑھئے اور ہر مرتبہ کے عوض آپ مجھ سے ایک درخواست کریں میں اسے قبول کرلوں گا چنانچہ میں نے دو مرتبہ تو اپنی امت کی بخشش کی دعاء کرلی اور تیسری چیز کو اس دن کے لئے رکھ دیا جب ساری مخلوق حتٰی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی میرے پاس آئیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21179]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح