بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 23
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 21129 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أُبَيٍّ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيٍّ ، نَحْوَهُ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21129]
حکم دارالسلام
صحيح مرفوعا، وهذا اسناد ضعيف لضعف محمد بن ابان، لكنه توبع
الحكم: صحيح مرفوعا، وهذا اسناد ضعيف لضعف محمد بن ابان، لكنه توبع
حدیث نمبر: 21130 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ ، أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَيْسٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أُبَيٍّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ قَيْسٌ : حَدَّثَنَا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ذَكَرَ الْأَنْبِيَاءَ بَدَأَ بِنَفْسِهِ، فَقَالَ: " رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا، وَعَلَى هُودٍ، وَعَلَى صَالِحٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی نبی کا ذکر فرماتے تو اس کا آغاز اپنی ذات سے کرتے تھے چنانچہ ایک دن فرمایا ہم پر اور ہود علیہ السلام اور صالح علیہ السلام پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21130]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل قيس، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل قيس، لكنه توبع
حدیث نمبر: 21131 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْقَدَّاحُ ، جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّادِقُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْقَدَّاحُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّادِقُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَارَانِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ فِي الرَّجُلِ الَّذِي اتَّبَعَهُ مُوسَى، فَقُلْتُ: هُوَ الْخَضِرُ، وَقَالَ الْفَزَارِيُّ هُوَ رَجُلٌ آخَرُ، فَمَرَّ بِنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَدَعَوْتُهُ، فَسَأَلْتُهُ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الَّذِي تَبِعَهُ مُوسَى؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " بَيْنَمَا مُوسَى جَالِسٌ فِي مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: هَلْ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِاللَّهِ مِنْكَ؟ قَالَ: مَا أَرَى، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ بَلَى، عَبْدِي الْخَضِرُ، فَسَأَلَ السَّبِيلَ إِلَيْهِ، فَجَعَلَ اللَّهُ لَهُ الْحُوتَ آيَةً إِنْ افْتَقَدَهُ، وَكَانَ مِنْ شَأْنِهِ مَا قَصَّ اللَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کا اور حر بن قیس فزاری کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس رفیق کے متعلق اختلاف رائے ہوگیا جس طرف سفر کر کے جانے کی بارگاہ الہٰی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے درخواست کی تھی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رائے یہ تھی کہ وہ حضرت خضر علیہ السلام تھے اسی دوران وہاں سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا گذر ہوا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما انہیں پکار کر کہا کہ میرا اور میرے اس ساتھی کا اس بات میں اختلاف ہوگیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وہ ساتھی کون تھا جس کی طرف سفر کر کے ملنے کی درخواست انہوں نے کی تھی؟ کیا آپ نے اس حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کچھ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے کسی اجتماع سے خطاب فرما رہے تھے کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر ان سے پوچھا کہ آپ کے عمل میں اپنے سے بڑا کوئی عالم بھی ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا نہیں اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی آئی کہ ہمارا ایک بندہ خضر تم سے بڑا عالم ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے ملنے کا طریقہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے ایک مچھلی کو ان کے لئے نشانی قرار دیتے ہوئے فرمایا جب تم مچھلی کو نہ پاؤ تو واپس آجانا کیونکہ وہیں پر تمہاری ان سے ملاقات ہوجائے گی حضرت موسیٰ علیہ السلام سفر پر روانہ ہوئے تو ایک منزل پر پڑاؤ کیا اور اپنے خادم سے کہنے لگے ہمارا ناشتہ لاؤ اس سفر میں تو ہمیں بڑی مشقت کا سامنا کرنا پڑا ہے وہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مچھلی کو غائب پایا تو دونوں اپنے نشانات قدم پر چلتے ہوئے واپس لوٹے اور پھر وہ قصہ پیش آیا جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21131]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، عبدالله بن ميمون متروك، لكن الحديث صحيح
الحكم: إسناده ضعيف جدا، عبدالله بن ميمون متروك، لكن الحديث صحيح